دالبندین (رپورٹ: محمد حمیر قاضی) بلوچستان نیشنل پارٹی ڈسٹرکٹ چاغی کے ضلعی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں بلوچ کش نام نہاد سیندک پروجیکٹ کی طرف سے مسلسل مقامی بے روزگار نوجوانوں کو نظر انداز کرنے اور غیر مقامی اور منظور نظر لوگوں کو پروجیکٹ میں بھرتی کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے عمل کی بی این پی پہلے بھی مذمت کرچکی ہیں اور اب بھی کسی صورت مقامی بے روزگار نوجوانوں کے استحصال پر خاموش نہیں رہیں گی سیندک پروجیکٹ شروع سے اب تک مسلسل مقامی لوگوں کو نظر انداز کرکے انکے جگہ پر دیگر صوبوں کے لوگوں کو لاکر بھرتی کررہے ہیں اور جب پروجیکٹ میں مقامی لیبر اپنے جائز مطالبات کیلئے آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں خاموش کرنے کیلئے ملازمت سے برطرف کرنے کی دھمکی دی جاتی ہیں اور ایم ڈی سیندک اور انکے دیگر آفسر شاہی سیندک پروجیکٹ میں اپنے ذاتی اجاراہ داری قائم کیے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی ایک قومی پارٹی کی حیثیت سے نام نہاد میگا پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو نظرانداز کرنے پر کسی صورت خاموش نہیں رہے گی کیونکہ پارٹی کا شروع سے یہی موقف رہا ہیں کہ ان نام نہاد پروجیکٹس سے بلوچستان کے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہیں لہذا انہیں بند کرکے قومی وسائل محفوظ بنائے جائے اس وقت پروجیکٹ کو صرف چند طبقوں نے یرغمال بناکر اپنے کو ارب پتی بنایا ہے مگر علاقے کے لوگ آج بھی پروجیکٹ کے وسائل سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل کی نیلامی اور مال غنیمت سمجھ کر لوٹنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے اور عنقریب پارٹی اس حوالے سے احتجاجی تحریک شروع کرکے استحصالانہ پالیسیوں پر بھرپور آواز اٹھائیں گے۔
![]()