محراب پور (رپورٹ: امداداللہ ملک) ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کے سرپرست اعلیٰ حضرت مفتی سعید الرحمن اور مولانا مفتی مختار حسن کا محراب پور غوری حال میں سیمینار سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں پاکستان کا مطلب لا الہ الاللہ سے لے مدینہ کی ریاست تک کا ایجنڈا ایک ہی ہے موجودہ پارٹیوں کا مقصد مذہبی سلوگن کو استعمال کر کے اقتدار کو حاصل کرنا ہے جبکہ حضور ﷺ اور تمام انبیاء نے اپنے اپنے دور کے ظالمانہ نظام کو چیلنج کیا اور سوساٸٹی کو غلامی کے نظام سے نکالا۔ جبکہ آج ہم نے چند رسومات اور عبادات کو مکمل اسلام سمجھ لیا اور نظام وہ ہی ظالمانہ قیصر و کسریٰ والا قبول کیا ہوا ہے ہمارے ملک کے تمام اٸیرپورٹ، ٗموٹروے وغیرہ گروی ہیں ہمارا بجٹ آئی ایم ایف بناتا ہے ٹیکس کا فیصلہ بھی وہی کرتا ہے اسلٸے ہم ذہنی غلامی کا شکار ہے سیرت نبی ﷺ کی روشنی میں اس ذہنی غلامی سے آزادی حاصل کرنی چاہٸے جب تک ذہن آزاد نہ ہو تب تک ہم نہ سیاسی نہ ہی معاشی آزادی حاصل کر سکتے ہیں لاالہ الا للہ کا پہلا مقصد ہی ہمارے ذہنوں کو آزاد کرنا ہے موجودہ نظام میں صرف ٹاٸیٹل اور شکلیں بدل کر ذہنی غلامی مسلط کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کا مقصد حضورﷺ نے جو سسٹم دیا اس کا قاٸم کرنا ہے نہ کہ اس پر اپنا اپنا کاروبار چمکایا جاٸے سیمینار سے خطاب کرتے ہوۓ انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد بھی ہمیں سیرت کے مطابق اس ذہنی غلامی سے نکلنے کی سوچ کو پیدا کرنا ہے سیمینار سے مولانا مختار حسن نے بھی خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ حضرت شاہ ولی اللہ کے مطابق بھی حضورﷺ کی بعیثیت کا مقصد قیصر و کسرٰی کے نظام کو توڑنا تھا انہوں نے کہا کہ آج مذہبی جماعتوں کے ہزاروں لاکھوں کے اجتماعات کے بعد بھی حکمران طبقہ میں کوٸی رعب اور خوف ہراس نہی پایا جاتا کیونکہ حکمران طبقہ جانتا ہے کہ اس اجتماعت سے ہمارے سسٹم کو کوٸی خطرہ لاحق نہی جبکہ اسلام کے اندر کیپٹلزم اور شوشلزم سے بڑھ کر امن قاٸم کرنے کی روح موجود ہے موجودہ مذہبی جماعتوں نے صرف مکی دور کو اختیار کرکے اصلاحی طریقہ اختیار کرنے کو دین اسلام قرار دے دیا اس لٸے دین اسلام کو کلی طور پر قبول کرنے کی ضرورت ہے سیمینار میں نوجوان طلبہ، وکلا، اساتذہ اکرام ، صحافیوں و سماجی رہنماٶں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
![]()