ٹنڈو آدم (رپورٹ: رضوان احمد) 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی اپیل پر ملک بھر کی طرح ٹنڈو آدم میں بھی جماعت اسلامی کی جانب سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں عبدالعزیز غوری، مشتاق احمد عادل، عبدالغفور انصاری اور عبدالستار انصاری کی ایک بڑی ریلی نکالی گئی ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز، جھنڈے اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی فوج کے کشمیری مسلمانوں پر مظالم کیخلاف نعرے درج تھے ریلی کے شرکاء بھارتی فوج اور مودی کے خلاف اور پاک فوج، رینجرز اور کشمیری مجاہدین کے حق میں فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے پریس کلب ٹنڈو آدم کے سامنے جماعت اسلامی کے رہنماؤں عبدالعزیز غوری، مشتاق احمد عادل، عبدالغفور انصاری، عبدالستار انصاری، حاجی نور حسن نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر سب سے پرانا مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ان مسلمان ممالک کے حکمرانوں کا منہ چڑا رہا ہے جو مسئلہ کشمیر حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی رنگ لائے گی اور کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت مل کر رہے گا وہ بہت جلد پاکستان کے ساتھ ہونگے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بچے، بوڑھے اور جوانوں کے دل کشمیری مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں بھارت کی دس لاکھ فوج کے مظالم بھی کشمیری مسلمانوں کے دل سے پاکستان کی محبت نہیں نکال سکتے بھارت میں مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں پر بڑا ظلم ہو رہا ہے جبکہ پاکستان میں تمام اقلیتیں عزت و آزادی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری پاک فوج اور رینجرز سرحدوں پر دشمنان پاکستان کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے اور پوری پاکستانی قوم فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وطن عزیز کے دفاع کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں نہیں کرینگے، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے سانگھڑ میں امیر جماعت اسلامی ضلع سانگھڑ محمد رفیق منصوری ، جے آئی یوتھ سندھ کے صدر فرہاد گل، محمد طفیل، ظہیر الدین جتوئی، راجہ وسیم راجہ راشد، سنجھورو میں عارف آرائیں، فرہاد گل، ڈاکٹر محمد سہیل ہنجرھ، فیصل موہل، جھول میں جے آئی یوتھ کے صدر امجد بھٹی، اویس علی خاصخیلی، کھڈرو، شاہ پورچاکر میں بھی جماعت اسلامی کی جانب سے کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے بڑی ریلیاں نکالی گئیں اور بھارتی افواج کے کشمیری مسلمانوں پر مظالم کی پرزور مذمت کی گئی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں استصواب رائے کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کو انکی مرضی کے مطابق رہنے اور جینے کا حق دے۔
![]()