کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی کورنگی پولیس نے 6 دن کے اندر گلہ کٹی لاش کا معمہ حل کرلیا۔ 27 جنوری 2020 کو تھانہ کورنگی انڈسٹریل ایریا کی حدود سے ملنے والی گلہ کٹی نعش کے قاتل آلہ قتل سمیت گرفتار۔ مقدمہ کا مدعی ہی قاتل نکلا۔ مقتول عابد کے قاتل اسکے 2 سگے بھائی اور اسکی بہن نکلے۔ 27 جنوری 2020 کو ایک گلی کٹی نعش جوکہ تھانہ کورنگی انڈسٹریل ایریا کی حدود سے رکشہ کے اندر سےملی تھی جسکی شناخت بعد میں عابد ولد بابو دین کے نام سے ہوئی تھی کے قتل میں ملوث اسکے 2 سگے بھائیوں اور سگی بہن کو گرفتار کر کے آلہ قتل برامد کرلیے۔ کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس نے کاروائی کرتے ہوۓ ذیل ملزمان بنام محمد عامر ولد بابو دین، کامران ولد بابو دین اور ثمرین دختر بابو دین کرلیا ہے۔ گرفتار ملزمان بالا نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ ہم نے اپنے حقیقی بھائی عابد ولد نواب کو 27 جنوری 2020 کی رات کو اپنی حقیقی بہن ثمرین کے ساتھ ملکر اپنے رہاہشی محلہ ناصر کالونی کے ایک خالی پلاٹ میں کلہاڑی و چھری کے اور لوہے کے سوا سے قتل کیا۔ مقتول عابد جوکہ رکشہ مکینک کا کام کرتا تھا اور عادی چور تھا علاقے میں کھڑے رکشوں میں چوری کی وارداتیں کرتا تھا اور چوری کی وارداتوں میں اپنی حقیقی ہمشیرہ ثمرین کو بھی زبردستی شریک کرتا تھا تاکہ اس پہ کوئی شک نہ کرے۔ گرفتار ملزمان عامر و کامران نے دوران تفتیش بتلایا کہ ہماری بہن ثمرین اکثر ہمارے کو بتلاتی تھی کہ مقتول بھائی مجھے زبردستی چوری کی وارداتوں میں ساتھ لیکر جاتا ہے۔ ملزم عامر و کامران نے بتلایا کہ ہم تینوں نے ملکر اپنے بھائی کی عادتوں سے تنگ آکر اپنے حقیقی بھائی عابد کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ مورخہ 27 جنوری 2020 کی رات کو ہماری بہن ثمرین جوکہ مقتول عابد کے ساتھ گھر سے نکل کر محلے ایک خالی پلاٹ لیکر پہنچی تو ہم دونوں بھائی بھی آلہ قتل برآمدہ بالا کے ہمراہ پہنچے اور تینوں نے ملکر اپنے حقیقی بھائی کو قتل کر کے نعش وہاں کھڑے رکشہ میں چھوڑ کر اپنے گھر آگئے۔ تھانہ کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس نے جب لاوارث نعش کی شناخت کے بعد ہم سے رابطہ کیا تو میں گرفتار ملزم عامر مقدمہ الزم نمبر 149/2020 میں مدعی بھی بن گیا۔ تھانہ کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس نے گرفتار شدہ بالا ملزمان کو باقاعدہ مقتول عابد کے قتل کے مقدمہ میں گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
![]()