Home / اہم خبریں / وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ڈیوس کے اخراجات اور ملک کو اس دورے سے حاصل فوائد کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ ذیشان احمد ملک ایڈووکیٹ صدر پی ڈی پی وکلاء فورم

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ڈیوس کے اخراجات اور ملک کو اس دورے سے حاصل فوائد کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ ذیشان احمد ملک ایڈووکیٹ صدر پی ڈی پی وکلاء فورم

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی وکلاء فورم کے صدر ذیشان احمد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ڈیوس کے اخراجات اور ملک کو اس دورے سے حاصل فوائد کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ دورہ ڈیوس کس مقصد کے لئے کیا گیا اور اس پر انویسٹ کرنے والوں کے مقاصد کیا ہیں؟ ملک و قوم کے مفاد میں کئے جانے والے دورہ جات میں کوئی حرج نہیں، لیکن جہانگیر ترین اسٹائل کے انویسٹرز ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کا نجی اسپانسرز کی بنیاد پر دورہ خطرات سے خالی نہیں ہے کیونکہ جو خرچ کرتے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ وصول کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سیاسی انویسٹرز اس کی واضح مثالیں ہیں۔ یہ پاکستانی عوام کی عزت نفس پر طمانچہ اور ملکی وقار کے منافی ہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان وکلاء فورم کے صدر ذیشان احمد ایڈووکیٹ نے ڈیووس میں وزیر اعظم عمران خان کے انٹرویو پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک کھرب پتی تاجر کے بارے میں وزیر اعظم کا بیان کہ وہ لاکھوں ڈالر کے اخراجات کا اسپانسر ہے، دراصل حکام کو اس تاجر کو وزیر اعظم کی طرف سے کرپشن کے لائسنس دیے جانے کا پیغام اور اعلان ہے۔ اس سے قبل جہانگیر ترین کو استعمال کر کے انہیں آٹا اور چینی کے بحران کے ذریعے کھربوں روپے کی کرپشن کی اجازت دی گئی جبکہ ادویہ مہنگائی بحران میں اربوں کمانے والے وزیر کو عمران خان نے پارٹی کا جنرل سیکریٹری بنا کر اس کی کرپشن کی توثیق کی۔ صدرذیشان احمد ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ اگر ڈیوس کا دورہ ملکی مفاد میں اہم تھا تو سرکاری خرچ پر بھی سادگی سے کم خرچ دورہ کیا جا سکتا تھا اور اگر اس دورے میں ملکی مفاد شامل نہیں تھا تو دو راتوں میں ساڑھے چار لاکھ ڈالر کی خطیر رقم تاجر دوستوں سے حاصل کر کے خرچ کرنا نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی اور عمران خان کی سادگی کے دعووں کی نفی ہے جو انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے کئے تھے۔ ذیشان احمد ایڈووکیٹ نے پاسبان کے پلٹ فارم سے متنبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایسے لگتا ہے جیسے ملک اندرونی اور بیرونی طور پر انویسٹرز کے حوالے کیا جا رہا ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو سمجھنا چاہیئے کہ وہ اب کرکٹ ٹیم کے کپتان نہیں ملک کے وزیر اعظم ہیں یہ منصب سنجیدہ اور دانشمندانہ اقدامات اور فیصلوں کا متقاضی ہے۔ اس اقدام نے قدرتی اور مصنوعی طور پر گُروم کی گئی قیادت کا فرق واضح کر دیا ہے۔جب تک عوام میں سے کوئی عوامی نمائندہ منتخب ہو کر اسمبلیوں میں نہیں پہنچے گا تب تک عوامی مسائل اور ملکی و قومی مفاد کے لئے کوئی اقدامات اٹھائے جانا ممکن نہیں۔ پی ٹی آئی کا ڈیڑھ سالہ طرز حکومت ثابت کرتا ہے کہ اس کے اقدامات آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کئے جا سکتے۔ وزیر اعظم بتائیں کہ وہ ڈیوس ملکی مفاد کے لئے گئے تھے یا پکنک منانے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کراچی پریس کلب اور کمیونٹی پولیسنگ کراچی کے درمیان شجرکاری کے فروغ کیلئے ایم او یو پر دستخط

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) شہر قائد کو سرسبز اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک بنانے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے