Home / آرٹیکل / آئین بالا دست ہے تحریر: پروفیسر رفعت مظہر

آئین بالا دست ہے تحریر: پروفیسر رفعت مظہر

آئین بالا دست ہے

تحریر: پروفیسر رفعت مظہر

قلم درازیاں

امیرالمومنین حضرت عمرؓ کا قول ہے ”کسی کی وجاہت کے خوف سے اگر عدل کا پلڑا اُس کی طرف جھک جائے تو پھر قیسر وکسریٰ کی بادشاہت اور اسلامی حکومت میں کیا فرق رہ گیا“۔ اسلامی حکومت کی بنیاد ہی عدل ہے۔ رَبّ ِ لم یزل کا روزِ جزا و سزاکا فیصلہ بھی عدل پر ہوگا۔ رَبّ ِ کائینات کسی کو اُس وقت تک سزا نہیں دے گا جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ وہ سزا کا مستحق ہے، اِسی لیے انسان کے اعضاء بھی گواہی دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ مبیں میں عدل کو اوّلیت ہے۔ اگر کوئی شخص کسی بھی وجہ سے سزا سے بچ جاتا ہے تو روزِ قیامت اُسے حساب تو دینا ہوگا۔
منگل 17 دسمبر 2019ء کو تین رکنی خصوصی عدالت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کا مجرم قرار دیتے ہوئے سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف کو سزائے موت کا حکم سنایا جس پر فوج میں شدید غم وغصہ پایا گیا۔ فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے تحریری بیان میں فرمایا ”خصوصی عدالت کے فیصلے پر افواجِ پاکستان میں شدید غصّہ اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ پرویزمشرف چیف آف آرمی سٹاف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور صدرِپاکستان رہ چکے ہیں۔ اُنہوں نے 40 سال سے زائد پاکستان کی خدمت کی اور ملکی دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں۔ وہ کسی صورت میں بھی غدار نہیں ہو سکتے۔ اُن کے خلاف کیس میں آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور اُنہیں اپنے دفاع کا بنیادی حق بھی نہیں دیا گیا“۔ میجرجنرل آصف غفور صاحب نے یہ بھی فرمایا ”عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر کی گئی اور کیس کو اُجلت میں نپٹایا گیا، اِس لیے افواجِ پاکستان توقع کرتی ہیں کہ پرویزمشرف کو آئینِ پاکستان کے تحت انصاف دیا جائے گا“۔ یہ تو طے ہے کہ آئین کی بالا دستی کا اعتراف افواجِ پاکستان بھی کرتی ہیں، اِسی لیے فوجی ترجمان نے پرویزمشرف کو آئینِ پاکستان کے تحت انصاف دینے کا تقاضہ کیا ہے۔ یہ بھی عین حقیقت کہ کوئی بھی فانی انسان معصوم عن الخطا نہیں ہوتا۔ غلطیوں کی گنجائش بہرحال موجود ہے اِس لیے عدلیہ کے فیصلوں سے اختلاف کی گنجائش رہتی ہے۔ پرویز مشرف کیس میں سپریم کورٹ کا فورم موجود ہے جہاں اپیل کی جا سکتی ہے اور یہ بھی طے کیا جا سکتا ہے کہ 3 نومبر 2007ء کی ایمرجنسی پلس آئین شکنی ہے یا نہیں۔ انصاف کے تقاضے بہرحال پورے ہونے چاہییں لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ دینِ مبیں کے مطابق کوئی شخص خواہ کتنے بھی بڑے عہدے پر فائز کیوں نہ ہو، اُس نے اگر جرم کیا ہے تو اُس کی سزا بہرحال ملتی ہے۔ یاد رہے کہ جب حضورِ اکرم صلى الله عليه وسلم کے سامنے فاطمہ نامی عورت کی چوری کا کیس آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اُس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ صحابہ اکرام رضوان علیہم نے عرض کی کہ فاطمہ انتہائی طاقتور قبیلے کی عورت ہے، سزا دینے سے انتشار کا خطرہ ہے، اِس لیے معاف کر دیا جائے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ”رَبّ ِ کعبہ کی قسم اگر اِس عورت کی جگہ میری بیٹی فاطمہؓ بھی ہوتی تو میں اُس کا ہاتھ کاٹنے کا بھی حکم دیتا“ (مفہوم)۔ جب تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کو عدل کی مضبوط بنیادیں فراہم نہیں کی جاتیں، یہ نہ ترقی کرسکتا ہے اور نہ استحکام آسکتا ہے۔ پرویز مشرف کیس میں تمام آئینی تقاضے پورے ہونے چاہییں جس کے لیے سپریم کورٹ موجود ہے۔ بہتر یہی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے ورنہ صرف انتشار ہی انتشار۔
دسمبر 19 کو خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ سامنے آیا جس میں پرویزمشرف کو پانچ بار سزائے موت کا حکم دیا گیا۔ 169 صفحات پر مشتمل تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ (چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ) اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کا فیصلہ دیا جبکہ جسٹس نذر اکبر نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا استغاثہ پرویزمشرف پر سنگین غداری کا الزام ثابت نہیں کر سکا۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے لکھا ”پھانسی سے قبل پرویز مشرف فوت ہو جاتے ہیں تو لاش ڈی چوک لا کر تین دن تک لٹکائی جائے“۔ جسٹس شاہد کریم نے جسٹس وقار کے اِس نقطے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ اِس مثالی سزا کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ اپیل سے پہلے پرویز مشرف کو گرفتاری دینی ہوگی۔ فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ ایمرجنسی اور آئین معطل کرنے کے الفاظ سے مارشل لاء کے اثرات کم نہیں ہوتے۔ اعلیٰ عدلیہ نے نظریۂ ضرورت متعارف نہ کروایا ہوتا تو قوم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ نے جو پرویز مشرف کی لاش کو تین دن تک ڈی چوک میں لٹکانے جیسے الفاظ استعمال کیے، اُن سے ہمیں بھی شدید اختلاف ہے کیونکہ یہ الفاظ اسلامی اقدار اور انسانیت کی نفی کرتے ہیں۔ آئینی ماہرین بھی کہتے ہیں کہ اِن الفاظ سے تعصب کی بو آتی ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا ”پرویز مشرف نے جو کچھ کیا اِس کے بعد اُسے سزا تو ہونی ہی تھی مگر لاش کو لٹکانے کا فیصلہ انتہائی بیہودہ ہے۔ یہ فیصلہ ایک طرح سے مشرف کے حق میں چلا گیا“۔ بابر ستار نے کہا ”فیصلے سے لگتا ہے جیسے کوئی ذاتی بغض اور عناد تھا۔ پیراگراف 66 نہ ہوتا تو باقی فیصلہ نارمل لگتا ہے۔ کوئی بھی اِس کی نفی نہیں کر سکتا کہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوئی“۔ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید نے کہا ”مجرم کی لاش کو ڈی چوک لانے اور تین دن لٹکانے کی بات خلافِ آئین ہے“۔ دیگر نامی گرامی وکلاء کی آراء بھی لگ بھگ ایسی ہی ہیں لیکن وزیرِ قانون فروغ نسیم نے تو کمال ہی کر دیا۔ اُنہوں نے کہا ”جسٹس وقار احمد سیٹھ نے بہت غلط آبزرویشن دی اور مِس کنڈکٹ کیا۔ اُن کا ذہنی توازن درست نہیں۔ سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ جسٹس سیٹھ وقار کو کام کرنے سے روک دیا جائے۔ آرٹیکل 209 کے تحت جج کے خلاف ریفرنس دائر کر رہے ہیں“۔ وزیرِاعظم عمران خاں نے بھی کہا کہ فیصلہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیرشرعی ہے۔ جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اُن کی مثال نہیں ملتی۔۔۔۔۔ یہ تو بجا کہ جسٹس سیٹھ وقار نے فیصلے میں جو کچھ لکھا، وہ درست نہیں لیکن پرویز مشرف کے سابق وکیل فروغ نسیم کا تبصرہ کیا درست ہے؟۔ کیا کسی بھی محترم جسٹس کے بارے میں یہ کہنا کہ اُس کا ذہنی توازن درست نہیں، مناسب ہے؟۔ کیا یہ صریحاََ توہینِ عدالت کا کیس نہیں؟۔ جو شخص یہ بھی نہیں جانتا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کے تقاضے کیا ہیں، باعثِ شرم ہے کہ وہ ہمارا وزیرِ قانون ہے۔ یہاں یہ امر بھی مدّ ِ نظر رہے کہ پرویز مشرف کیس میں استغاثہ حکومت تھی اور شاید تاریخِ عالم میں یہ واحد مثال ہوگی کہ استغاثہ اپنے حق میں آئے ہوئے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے جا رہا ہے، ”جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے“۔

پرویز مشرف کیس میں مختلف آراء کو سامنے رکھتے ہوئے یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ ہر شخص آئین کی بالادستی اور آئینی تقاضے پورے کیے جانے کے حق میں ہے۔ آئینِ پاکستان میں آرٹیکل 6 کا لاگو کیا جانا پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ کا اہم موڑ ہے جس کے بعد یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ عدلیہ نے اُس نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا جو ہمیشہ عدل کے ماتھے پر کلنک تھا۔ اگر سپریم کورٹ پرویز مشرف کی سزا بحال رکھتی ہے تو پھر بھی صدرِ پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سزائے موت کو عمرقید میں بدل دیں یا معاف کر دیں لیکن یہ تو بہرحال ہوا کہ خود عدلیہ نے ہی آئین کے زخم بھرنے کی کوشش کی۔ یہ عین حقیقت ہے کہ آئین توڑنے والوں کو ہمیشہ عدلیہ نے ہی تحفظ فراہم کیا لیکن 17 دسمبر کو عدل کی تاریخ میں پہلی بار کسی آئین شکن کو سزا دی گئی۔ آئین کے آرٹیکل 6 کے مطابق جو شخص طاقت کے استعمال کے خلاف یا کسی اور غیر آئینی طریقے سے آئین منسوخ کرے یا معطل کرے یا منسوخ کرنے کی سازش کرے، وہ سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔ تین رکنی بنچ کے فیصلے سے پہلے یہ الزام صرف ”سویلینز“ پر دھرا جاتا رہا۔ اب پرویز مشرف بھی اِس کی زد میں آگئے۔ یہ تو تاریخ ہے کہ 3 نومبر 2007ء کو پرویز مشرف نے آئین معطل کیا اور پارلیمنٹ نے اُنہیں آئین کی اِس معطلی پر تحفظ بھی فراہم نہیں کیا، اِسی لیے سپریم کورٹ نے 2009ء میں اُنہیں غاصب قرار دے کر آئین سے بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ اُس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جس نے مفاہمت کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے معاملے کو لٹکائے رکھا اور مقدمہ درج نہیں کیا۔ یہی نہیں بلکہ پرویز مشرف کے ملک سے باہر جانے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ 2013ء کے انتخابات سے پہلے پرویز مشرف واپس آگئے اور میاں نواز شریف وزیرِاعظم بن گئے جنہوں نے سپریم کورٹ کے 2009ء کے حکم کے مطابق پرویز مشرف پر آئین سے غداری کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔ پرویز مشرف پر مقدمہ چلا لیکن شدید دباؤ اور اداروں کے درمیان محاذ آرائی کے خوف کی وجہ سے میاں نواز شریف نے بھی پرویز مشرف کو باہر جانے دیا مگر مقدمہ چلتا رہا۔ مقدمے کی 5 سالوں میں 125 پیشیاں ہوئیں اور عدالت بار بار پرویز مشرف کو پاکستان واپس آکر اپنا بیان ریکارڈ کروانے کا حکم دیتی رہی حتیٰ کہ اُنہیں ویڈیو لنکس پر بھی بیان ریکارڈ کروانے کی سہولت دی گئی لیکن وہ پاکستان آئے نہ ویڈیو لنک پر بیان دیا۔ اب تین رکنی بنچ کے فیصلے کے مطابق پرویز مشرف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں لیکن اِس شرط کے ساتھ کہ وہ پہلے پاکستان آکر گرفتاری دیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پرویز مشرف پاکستان واپس بھی آتے ہیں یا نہیں۔

نوٹ: آزادیِ اظہار رائے کے احترام میں کالم نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

یکم مئی، مزدوروں کا عالمی دن۔ پاکستان میں مزدوروں کے مسائل، حقوق اور بہتری کی راہیں ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

یکم مئی دنیا بھر میں محنت کشوں کے احترام، جدوجہد اور حقوق کی یاد تازہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے