ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ضلع بھر میں بھٹہ خشت کے مالکان نے اینٹوں کے نرخوں میں خود ساختہ اضافہ کر کے لوٹ مار مچا دی، نئے گھر، کوٹھیاں، بنگلے، پلازے، عمارتیں وغیرہ تعمیر کروانے والے شہریوں کی چیخیں نکل گئیں، ڈپٹی کمشنر سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق ہوس زر کی لت میں مبتلا بھٹہ مالکان کی ہٹ دھرمی کے باعث اینٹوں و ٹائلوں کی قیمتیں آسمان پر جا پہنچیں، اینٹوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، متعلقہ ذمہ داران کی عدم دلچسپی شہری سراپا احتجاج۔ اس حوالے سے شہریوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نئے گھر، کوٹھیاں، بنگلے تعمیر کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھٹہ خشت مالکان ہیں، جنہوں نے من مرضی کے نرخ مقرر کرکے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر رکھا ہے، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم بھٹہ مالکان کو مٹی، ریت، پانی سمیت تمام سہولتیں میسر ہیں اور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان فوگ سے پاک اضلاع میں شمار ہونے کے باوجود بااثر مالکان آئے روز اینٹوں کے نرخوں میں خود ساختہ اضافہ کرکے شہریوں کے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریت، مٹی، پانی، کوئلہ تمام اشیاء ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی چاروں تحصیلوں میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں جبکہ بھٹہ مالکان نے لاہور، اسلام آباد، کراچی کے نرخ ڈیرہ اسماعیل خان میں لاگو کر رکھے ہیں جو کہ محنت مزدوری کرنے والے افراد کے ساتھ سخت زیادتی کر رہے ہیں۔ شہریوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم دلچسپی کیوجہ سے بھٹہ مالکان نے جنگل کا قانون نافذ کر رکھا ہے، انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے باقاعدہ ایجنٹ نامزد کر رکھے ہیں جو عمارتوں کے مالکان اور بھٹہ مالکان کے مابین ایجنٹ کا کردار ادا کرکے بھٹہ مالکان سے کمیشن وصول کرتے ہیں، شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی چاروں تحصیلوں کے بھٹہ مالکان کو سرکاری نرخوں پر اینٹیں و ٹائلیں فروخت کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ شہری تعمیر و مرمت کا کام جاری رکھ سکیں اور مزدوروں کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں۔
![]()