کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جو ٹائیفائیڈ کنجوگیٹ ویکسین (ٹی سی وی) کو معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں متعارف کرا رہا ہے۔ حکومت پاکستان اس ویکسین کا آغاز صوبہ سندھ میں مہم سے کر رہی ہے، جہاں نومبر 2016 سے ادویات کے خلاف مدافعت (ایکس ڈی آر) ٹائیفائیڈ کی زیادہ تعداد رپورٹ کی گئی ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ بچے غیر متناسب طور پر ٹائیفائیڈ اور اس سے وابستہ پیچیدگیوں سے متاثر ہو رہے ہیں، اور ہمارا یقین ہے کہ ٹی سی وی بچوں کو ٹائیفائیڈ کی ممکنہ مہلک بیماری سے بچائے گا۔ صوبہ سندھ سے اس ویکسین کا آغاز کر رہے ہیں جہاں اس کی فوری ضرورت ہے، حکومت پاکستان نے بین الاقوامی اور مقامی شراکت داروں کے تعاون اور مربوط تائید سے مرحلہ وار قومی سطح پراس ویکسین کو معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں متعارف کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ 2017 میں، پاکستان میں ٹائیفائیڈ کے 63 فیصد کیسسز اور 70 فیصد ٹائیفائیڈ کے باعث پاکستان میں اموات کی شرح 15سال سے کم عمر بچوں کی ہے۔ ان قیمتی جانوں کا ضیا روکنے کیلئے ایک مرحلہ وار شمولیت کیلئے دو ہفتوں کی مہم سے آغاز کیا جا رہا ہے جس میں صوبہ سندھ کی 460 شہری یونین کونسلز میں (گاوی) ویکسین فراہم کرنے کے اشتراک و مالی معاونت سے 9 ماہ سے 15 سال کی عمر کے 10.1 ملین بچوں کو یہ ویکسین لگائی جائے گی۔ اس میں کراچی کے 4.7 ملین بچے شامل ہوں گے۔ چونکہ مہم میں بڑے بچوں تک پہنچنے کی ضرورت ہے، اس میں اسکول بہت اہم کردار ادا کریں گے۔ اس مہم کے بعد صوبہ کے تمام علاقوں میں ای پی آئی مراکز کے ذریعہ معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے حصہ کے طور پر 9 ماہ تک کے بچوں کو یہ ویکسین دی جائے گی۔ صوبائی وزیر برائے صحت و پاپولیشن ویلفیئر سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ ٹائیفائیڈ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو بہت تیزی اور آسانی سے ایسے علاقوں میں پھیلتی ہے جہاں لوگ ہجوم میں رہتے ہیں جہاں صفائی ستھرائی، پانی اور نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کی ناقص صورتحال ہوتی ہے۔ شہری علاقوں میں ویکسینیشن کا آغاز نا گزیر ہے جہاں لوگوں کو اس بیماری سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹائیفائیڈ سے بچا جاسکتا ہے۔ ٹائیفائیڈ کے مرض کو کم کرنے کیلئے ویکسینیشن ایک مؤثر بچاؤ کا طریقہ ہے۔ ٹی سی وی مہم 18 سے 30 نومبر تک سندھ میں چلائی جائے گی، اس کے بعد ٹی سی وی کو دسمبر سے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ حکومت ٹی سی وی کی مہم کے ساتھ حفظان صحت کے اصولوں (پینے کا پانی، صفائی اور ستھرائی) کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ ٹائیفائیڈ، سالمونیلا ٹائیفی کی وجہ سے ہونے والی ایک خطرناک بیماری ہے جو ناقص غذا اور آلودہ پانی کے استعمال سے پھیلتی ہے، ترقی پذیر ممالک میں بچوں اور کم وسائل والی کمیونٹی پر غیر متناسب اثر ڈالتی ہے۔ ٹی سی وی ایک محفوظ اور مؤثر ویکسین ہے جسے عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تجویز کیا ہے۔ پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کی ترجمان ڈاکٹر پلیتھا ماہی پالا نے بتایا کہ ٹائیفائیڈ کنجو گیٹ ویکسین بچوں کو بیمار ہونے اور ادویات کے خلاف مدافعتی ٹائیفائیڈ سے بچانے کیلئے ایک انتہائی مؤثر ویکسین ہے۔ ہم حکومت پاکستان کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے بچوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے یہ ویکسین متعارف کرائی۔ ہم پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس مہم کے ذریعہ ہر بچے تک پہنچنے کی زبردست کوشش کی ہے۔ پاکستان میں ٹائیفائیڈ کی موجودہ وبا سے صرف صوبہ سندھ میں 15 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، اور ان میں سے 10 ہزار سے زائد افراد ایسے ہیں جن کی نشاندہی ادویات کے خلاف مدافعت (ایکس ڈی آر) ٹائیفائیڈ کے طور پر کی گئی تھی۔ پہلی دفعہ ادویات کے خلاف مدافعت (ایکس ڈی آر) ٹائیفائیڈ کی وبا منظر عام پر آئی، جس کی روک تھام اور علاج انتہائی مہنگا ہونے کے باعث بہت دشوار تھا۔ پاکستان میں یونیسیف کی نمائندہ آئیڈا گرما کا کہنا تھا کہ ہم حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے بچوں کو ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کیلئے حفاظتی ٹیکوں کی مہم کو ترجیح دی۔ ٹی سی وی کی مرحلہ وار قومی حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں شمولیت سے یقینی طور پر یہ ویکسین سب سے زیادہ خطروں سے دوچار بچوں تک پہنچے گی۔ ٹی سی وی ایک خوراک کی ویکسین ہے، جو انٹرا مسکیولر کے طور پر ٹیکوں کے ذریعہ لگائی جائے گی، جس کی قیمت کم اور افادیت زیادہ ہے، توقع ہے کہ یہ 9 ماہ سے زائد عمر کے نوزائیدہ بچوں اور بالغوں کو طویل مدت کیلئے تحفظ فراہم کرے گی۔ اس موقع پر گاوی کی چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر سیتھ برکلے نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس کی دریافت سے پہلے ٹائیفائیڈ سے متاثرہ پانچ لوگوں میں سے ایک ہلاک ہو جاتا تھا، ادویات کے خلاف مدافعتی ٹائیفائیڈ کے منظر عام پر آتے ہی ہم وہی 19 ویں صدی کے دور میں واپس چلے گئے تھے جہاں اموات کی تعداد بہت زیادہ تھیں، جو ہم سب کیلئے ایک خطرہ ہے۔ اسی وجہ سے ٹائیفائیڈ کنجوگیٹ ویکسین (ٹی سی وی) انتہائی اہم ہے اور حکومت پاکستان اس جان بچانے کی ویکسین کو معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں متعارف کرانے کی پہلے حقدار ہے۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسن میں ویکسین ڈیولپمنٹ اینڈ گلوبل ہیلتھ کی ڈائریکٹر اور ٹائیفائیڈ ویکسین ایکسلریشن کنسورشیم کی ڈائریکٹر ڈاکٹر کیتھلین ایم نوزیل کہتی ہیں کہ ہمیں گاوی کے ساتھ شراکت میں کام کرنے پر فخر ہے جو زیادہ متاثرہ ممالک کو ٹائیفائیڈ سے بچانے کیلئے بچوں کی یہ نئی ویکیسن متعارف کرانے میں مدد کر رہا ہے۔ یہ ٹائیفائیڈ کنجوگیٹ بیماری سے قلیل مدت کیلئے بچاؤ فراہم کرتا ہے جبکہ حکومتیں زیادہ مربوط روک تھام اور علاج کے طریقوں پر عملدرآمد کرکے پینے کا صاف پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کی اصولوں کو یقینی بنا کر اس سے مکمل طور پر نجات حاصل کرسکتی ہیں۔
![]()