تازہ ترین
Home / اہم خبریں / محکمہ اطلاعات سندھ میں چھوٹے اخبارات کے ورکنگ صحافیوں کو 3 ماہ تک جھوٹی تسلیاں دینے کے بعد اب تک ایکریڈیشن کارڈ جاری نہیں کیے گئے

محکمہ اطلاعات سندھ میں چھوٹے اخبارات کے ورکنگ صحافیوں کو 3 ماہ تک جھوٹی تسلیاں دینے کے بعد اب تک ایکریڈیشن کارڈ جاری نہیں کیے گئے

کراچی (نوپ نیوز) محکمہ اطلاعات سندھ کی انوکھی منطق چھوٹے اخبارات سے منسلک ورکنگ صحافیوں کے ایکریڈیشن کارڈ گزشتہ تین ماہ گزرجانے کے باوجود اس تسلی پر کہ کارڈ ابھی پروسس میں ہیں اور کارڈ جلد مل جائیں گے کا دلاسہ دینے کے بعد کہا جاتا ہے کہ کیس کمیٹی میں جائے گا اگر چھوٹے اخبارات کے صحافیوں کے ساتھ اس طرح ہی کرنا تھا تو ان کو 3 ماہ تک کیوں لولی پاپ دی گئی؟ تفصیلات کے مطابق کراچی سے شایع ہونے والے چند چھوٹے اخبارات کے صحافیوں کو سال 2018 کا حکومت سندھ محکمہ اطلاعات کی طرف سے جاری ہونے والے ایکریڈیشن کارڈ کے فارم جو جنوری 2018 سے مارچ 2018 تک جمع کے جا رہے تھے اب تک ان کے کارڈ جاری نہیں کیے گئے اور جب صحافی حضرات محکمہ اطلاعات کے دفتر میں فارم جمع کروانے کے بعد اپنے کارڈ کے حصول کے لئے چکر لگاتے ہیں تو ان کو محکمہ اطلاعات میں موجود امتیاز نامی افسر مختلف بہانے بناکر صحافیوں کو کہتے ہیں کہ آپ اگلے ہفتے آجائیں کارڈ بنا نہیں ہے پھر اس کے بعد کہتے ہیں کہ اپنے اخبار کا ریگولریٹی سرٹیفکیٹ کی کاپی لا کر جمع کروائیں اور جب ان کو یہ کاپی جمع کروا دی جاتی ہے تو اس کے بعد پھر کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے اب آپ جائیں کارڈ کے لئے اب آپ کو فون کر دیا جائے گا- مگر گزشہ 3 ماہ گزر جانے کا باوجود محکمہ اطلاعات کی جانب سے کوئی فون نہیں کیا گیا اور جب صحافی دوبارہ ان کے دفتر کے چکر لگاتے ہیں تو اس پر کہا جاتا ہے کہ فون تو کیا ہوگا مگر کسی نے اٹھایا نہیں ہوگا اور اس پر پھر کہا جاتا ہے کہ اگلے ہفتے آجائیں ایکریڈیشن کارڈ مل جائے گا- 3 تک ماہ مختلف طریقوں سے بہانے بازی کرنے کے بعد کہا جاتا ہے جائیں جا کر میڈم سے مل لیں تو پھر میڈم کہتی ہیں کہ آپ نے جو اخبار کا ریگولریٹی سرٹیفکیٹ کی کاپی جمع کروائی تھی وہ جعلی ہے حیرت انگیز طور پر کہ ریگولریٹی سرٹیفکیٹ کی کاپی جو جمع کروائی جاتی ہے وہ اصل ہی ہوتی ہے مگر اس کاپی کو کہا جا رہا ہے کہ جعلی ہے یہ ریگولریٹی سرٹیفکیٹ جو اخبار کو دیا جاتا ہے یہ محکمہ داخلہ یا پھر محکمہ خارجہ جاری نہیں کرتا بلکہ ان ہی کی وزارت سے جاری ہوتا ہے یعنی وزارت اطلاعات حکومت سندھ سے- کبھی وزیر اعلی سندھ اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ سندھ حکومت نے صحافیوں کے سال 2018 کے تمام ایکریڈیشن کارڈ جاری کردیے ہیں مگر افسوس کہ یہاں یہ صرف زبانی بیان ہی ہے- بڑے میڈیا چینل اور بڑے اخبارات کو ایکریڈیشن کارڈ بروقت جاری کیے جاتے ہیں مگر المیہ ہے کہ چھوٹے اخبارات کو محکمہ اطلاعات میں موجود افسران و ملازمین شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کے بعد ان کے کارڈز کا اجراء نہیں کرتے ہیں جس سے صحافیوں میں بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے- وزیر اعلی سندھ اور وزیر اطلاعات اس دوہرے معیار کے خلاف کب ایکشن لیں گے جہاں چھوٹے اخبارات سے منسلک صحافیوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے- آخر کب تک صحافیوں کے حقوق جو ان کا بنیادی حق ہے اس کو صلب کیا جائے گا؟ یہ سندھ حکومت کے لئے اور صحافتی تنظیموں کے لئے المیہ ہے-

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے