ٹوکیو (مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں اپنی جہاز رانی کو محفوط بنانے کے لیے سیلف ڈیفنس فورسز بھیجنے کے منصوبے کے وقت اور دورانیے پر غور کر رہا ہے۔ قومی سلامتی کونسل نے جمعے کے روز خطے سے گزرنے والے جہازوں کے ساتھ نگران جہاز رکھنے کے امریکہ کے تجویز کردہ بین الاقوامی اتحاد میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ حکام نے فیصلہ کیا کہ متعلقہ بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے جاپان خود اپنے اقدامات اٹھائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے پس منظرمیں جاپان کے ایران کے ساتھ طویل عرصے سے قائم دوستانہ تعلقات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایس ڈی ایف کی ممکنہ تعیناتی سے اطلاعات جمع کرنے میں مدد ملے گی، اور یہ تعیناتی خلیج اومان، شمالی بحیرہ عرب اور یمن کے ساحل کے قریب ہو سکتی ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں خلیج فارس میں ایس ڈی ایف بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ مجوزہ مشن میں خلیج عدن میں انسداد قزاقی سرگرمیوں میں مصروف جہازوں سمیت، بحری سیلف ڈیفنس فورس کے بحری جہاز اور گشتی ہوائی جہاز شامل ہونے کا امکان ہے۔
![]()