ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ اسماعیل خان میں اب تک کی تاریخ کے سب سے بڑے کروڑوں روپے کے غبن کا میگا کرپشن سیکنڈل اور اہم فائلوں کی چوری کی تحقیقات کے لئے پشاور سے خصوصی تحقیقاتی ٹیم ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئی، تحقیقاتی ٹیم نے ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس میں پڑاﺅ ڈال دیا، تمام ریکارڈ کو قبضہ میں لے کر چھان بین شروع کردی گئی، افسران اور اہلکاروں کے گرد گھیرا تنگ ہونے پر ان میں کھلبلی مچ گئی، بچاﺅ کے لئے بڑوں سے رابطے تیز کردیئے گئے، اہم انکشافات متوقع ، نامور شخصیات کے نام سامنے کی توقع۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ میں اب تک کی تاریخ کے سب سے بڑے کروڑوں روپے کے غبن کا میگا کرپشن سکینڈل منظر عام پر آنے اور سوچی سمجھی سازش کے تحت ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ کے دفتر سے دن دیہاڑے اہم ریکارڈ کے چوری ہونے کے منصوبے کو کینٹ پولیس کے ناکام بنانے کے بعد اکاﺅنٹینٹ جنرل اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ڈسٹرکٹ کمپٹرولر بنوں کی سربراہی میں ایک اور تحقیقاتی ٹیم مقرر کی گئی جوکہ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئی اور اس نے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ میں تمام ریکارڈ اپنے قبضہ میں لے کر اس کی چھان بین از سرنو شروع کردی ہے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ڈسٹرکٹ کمپٹرولر ڈیرہ کے خلاف کرپشن کی شکایات پر اکاﺅنٹینٹ جنرل خیبرپختونخوا نے ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ میں ریکارڈ کی چھان بین کے لئے آڈٹ ٹیم مقرر کی۔ آڈٹ ٹیم نے ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ کا دورہ کیا اور ڈسٹرکٹ کمپٹرولر آفسیر ڈیرہ سے ریکارڈ طلب کیا لیکن اکاﺅنٹ آفس کی طرف سے ریکارڈ پیش نہ کیا گیا۔ اکاﺅنٹینٹ جنرل کی جانب سے دوبارہ ٹیم مقرر کی گئی جس نے چند ماہ قبل اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ کا دوبارہ دورہ کیا۔ اس دوران اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ کے افسران نے ریکارڈ پھر بھی پیش نہیں کیا اور اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لئے آڈٹ ٹیم کے سامنے تسلیم کیا کہ غلطی سے ڈبل بل پاس ہوگئے اور اوور پیمنٹ بھی کی گئی لہذا ہم نے پنشنرز اور ملازمین سے اووپیمنٹ کی ریکوری شروع کردی ہے۔ آڈٹ ٹیم کے سامنے ریکوری کرنے کے اقدام نے ثابت کردیا کہ سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے کی خرد برد کی گئی ہے جس پر آڈٹ ٹیم نے آڈٹ پیرا بنا کر کروڑوں روپے کی خرد برد کی رقم اکاﺅنٹ آفس کے افسران اور اہلکاروں سے ریکوری کی سفارش کردی۔ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ کے افسران کی کرپشن منظر عام پر آنے کے بعد افسران میں کھلبلی مچ گئی اور انہوں نے اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے علاوہ نیب، اینٹی کرپشن، ایف آئی اے کی جانب سے چھاپوں کے دوران ریکارڈ کو قبضہ میں کرنے کے خدشہ کے باعث اہم ریکارڈ کو غائب کرنے کا بڑا منصوبہ بناتے ہوئے ریکارڈ کے چوری ہونے کا ڈھونگ رچایا جوکہ بے نقاب ہوگیا۔ ڈسٹرکٹ کمپٹرولر ڈیرہ نے خود ہی تھانہ کینٹ میں چوکیدارکے ذریعے اکاﺅنٹ آفس کا ریکارڈ چوری ہونے کی درخواست دی جس پر پولیس نے چھان بین کی تو سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈ نگ کے ذریعے دفتر کے ہی اہلکار کی ملی بھگت ریکارڈ چوری کرنے میں ملوث چور بے نقاب کرلیا گیا جس کی پولیس کو تلاش جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ڈیرہ پولیس کی جانب ڈی ایس پی سٹی کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم مقرر کردی گئی ہے جس نے چوری شدہ ریکارڈ کے حوالے سے مزید تحقیقات اور چھان بین شروع کر رکھی ہیں جس میں اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ کے کمپٹرولر آفسیر سمیت دیگر اہلکاروں کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ دوسری جانب پشاور سے آنے والی ٹیم نے بھی اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ میں موجود تمام ریکارڈ قبضہ میں لے کر اس کی چھان بین شروع کردی ہے جس میں اہم انکشافات متوقع ہیں۔
![]()