کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی لوک ورثہ کمیٹی کے زیرِ اہتمام سندھی زبان کے نامور شاعر اور عالم مقصود گل کی یاد میں حسینہ معین ہال میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ادبی و سماجی شخصیات اور علم و ادب سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب میں مہتاب اکبر راشدی، پروفیسر الطاف اثیم، ڈاکٹر مجیب الدین صحرائی، ڈاکٹر ریاضت برڑو، عادل شاہ، طارق عزیز شیخ اور چیئرمین لوک ورثہ کمیٹی ڈاکٹر ایوب شیخ سمیت دیگر مقررین نے مقصود گل کی علمی و ادبی خدمات پر روشنی ڈالی، جبکہ نظامت کے فرائض یاسر قاضی نے انجام دیے۔
صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقصود گل علم، محبت اور انسان دوستی کا روشن استعارہ تھے، جنہوں نے اپنی شاعری اور علمی خدمات کے ذریعے سندھی ادب کو نئی جہتیں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ادیب معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی تخلیقات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اپنے ادیبوں اور شاعروں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، تاہم ایسی تقریبات سے اداروں کی کارکردگی کا احساس ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 75 سال گزرنے کے باوجود خواتین کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کی وہ حقدار ہیں، جبکہ معاشرتی تبدیلی میں خواتین اور نوجوانوں کا کردار کلیدی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقصود گل ایک بے لوث، انسان دوست اور علم و ادب سے محبت کرنے والی شخصیت تھے، جنہوں نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی۔ انہوں نے سچل سرمست کے فارسی کلام کا اردو ترجمہ بھی کیا، مگر ان کی خدمات کے اعتراف میں مزید کام کی ضرورت ہے۔
دیگر مقررین نے بھی مقصود گل کی شخصیت اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سچ، خوبصورتی اور اپنی دھرتی سے محبت کا استعارہ تھے۔ ان کی شاعری میں وطن، دریائے سندھ اور ثقافتی شعور نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر مقررین نے مطالبہ کیا کہ مقصود گل سمیت ماضی کے ادبا اور شعرا کی تخلیقات کو محفوظ اور شائع کیا جائے، جبکہ نئی نسل کے لکھاریوں کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔