Home / اسلام آباد / قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی موسمیاتی تبدیلی نے ناقص فیول کے پیدوار پر وزارت پیٹرولیم اور متعلقہ حکام کو کمیٹی میں طلب کرلیا

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی موسمیاتی تبدیلی نے ناقص فیول کے پیدوار پر وزارت پیٹرولیم اور متعلقہ حکام کو کمیٹی میں طلب کرلیا

اسلام آباد (رپورٹ: محمد جواد بھوجیہ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی موسمیاتی تبدیلی نے ناقص فیول کے پیدوار پر وزارت پیٹرولیم اور متعلقہ حکام کو کمیٹی میں طلب کرلیا، مرگلہ ہلز پر ریسٹورنٹ کی اجازت دینے پر سی ڈی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے مرگلہ ہلز کو وزارت موسمیاتی تبدیلی کو دینے کی سفارش کردی۔ ارکان کمیٹی نے کہا کہ تجاوزات پر غریب کا گھر گرایا جاسکتا ہے تو امیروں کے ریسٹورنٹ کیوں نہیں گرائے جاسکتے، یکم مئی 2019 کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد میگنیزیم ملا پیٹرول کیوں فروخت ہو رہا ہے۔ سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے انکشاف کیا کہ اسمگل ایرانی تیل پاکستانی تیل سے بہتر اس میں میگنیزیم اور سلفر نہیں ہوتی، پاکستان میں مارخور کے شکار کیلئے 12 پرمٹ سالانہ جاری ہوتے ہیں کوٹہ نہیں بڑھا رہے ہیں۔ مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ 2023 تک 3.19 بلین درخت لگائیں گے، مارخور اور بلائنڈ ڈولفن ناپید ہونے کی لسٹ سے نکل چکے ہیں۔ منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا چیئرپرسن منزہ حسن کی زیر صدارت اجلاس والڈ پیپس میں ہوا۔ چیئرپرسن منزہ حسن نے پنجاب ایگری کلچر کی کمیٹی میں نہ آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اندازہ نہیں کمیٹی کے پاس کیا اختیارات نہیں، عزت سے بلا رہے ہیں، دوسرا طریقہ بھی آتا ہے، سیکریٹری پچھلے اجلاس میں بھی نہیں آئے اور اکاؤنٹنگ افسر کو بھیج دیا تھا۔ سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کمیٹی کو بریفینگ دیتے ہوئے کہا کہ دس ارب کے پہلے فیز کیلئے 7 ارب کی منظوری دیدی گئی جب تک ایکنک نہیں ہوتی اس وقت تک پیسے نہیں ملتے 2023 تک 3.19 بلین درخت لگائیں گے سندھ اور پنجاب میں بھی پلاسٹک پر پابندی لگائی گئی لوگوں کی طرف سے بھی پابندی کیلئے درخواست آرہی ہیں ایچ ای سی کے ساتھ ملکر کر 55 یونیورسٹیز میں انوائرمینٹل سائنسز میں ماسٹر کی ڈگری شروع کر دی ہے پرائمری لیول کے نصاب میں بھی کلائمیٹ چینج کے حوالے سے مواد شامل کیا جائے گا اسلام آباد کے اسکولوں میں کلائمیٹ چینج کے حوالے سے پروگرامز منعقد ہو رہے ہیںرکن قومی اسمبلی طاہر صادق نے کہا کہ وزیراعظم نے 10 ارب درخت لگانے کا ٹارگٹ دیا تھا مگر چار سال میں 3.29 بلین لگائے جا رہے ہیں کیا ٹارگٹ کو کم کیا گیا ہے پنجاب اتنا بڑا صوبہ ہے اس کو صرف پچاس کروڑ کا ٹارگٹ دیا ہے۔ ۔مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ پنجاب بڑا ٹارگٹ لینے کیلئے تیار نہیں تھا پچاس کروڑ درخت لگانے کا ٹارگٹ لیا ہے یہ بھی بڑی مشکلوں اور دباؤ کے بعد لیا ہے پنجاب فارسٹ ڈیپارٹمنٹ مردہ ہو چکی ہے پنجاب کا بالکل سویا ہوا محکمہ تھا ان کو ٹریک پر ڈالا گیا پنجاب میں درخت لگانے کیلئے بہت پوٹینشل ہے ابھی سے نرسریز بنائی جائیں گی تو تین سال بعد درخت لگائے جا سکیں گے ضلع وار ماحول اور زمین کے مطابق درخت لگائے جائیں گے مارخور اور بلائنڈ ڈولفن ناپید ہونے کی لسٹ سے نکل چکے ہیں پاکستان میں گزشتہ سال 55 ارب کے پلاسٹک بیگز استعمال ہوئے اسلام آباد میں ابھی جرمانے اور سزائے دینے کا عمل مکمل طور پر شروع نہیں کیا۔ وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ پختونخوا کے ماڈل کو سامنے رکھ کر ٹارگٹ رکھا گیا ہم نے تمام صوبوں کو ایک پلیٹ فارم پر لیکر آئے سب کو دس ارب درخت لگانے کے ٹریک پر لگا دیا ملتان، فیصل آباد موٹروے پر درخت لگائے جائیں گے تمام ایگری کلچر یونیورسٹیز نے اپنی اپنی زمینوں پر نرسریز لگانے کا وعدہ کیا ہے آرائشی درخت ویسے بھی پاکستان کے نہیں باہر کے درخت لوکل درختوں کو کھا جاتے ہیں پھل دار درختوں سے بہت سے چیزیں جڑی ہیں شہروں میں فاسٹ گرونگ درخت نہیں لگائیں گے پاکستان میں پہلی مرتبہ ریڈ ڈیٹا بک بننے جا رہی ہے جب تک ڈیٹا موجود نہ ہو تو پالیسی بنانا ممکن نہیں چار سال بعد یہ بتانے کی پوزیشن میں ہوں گے کہ کونسی سپیشیز ناپید ہونے جا رہے ہیں وزیراعظم شکایات پورٹل پر سب سے زیادہ شکایات سالڈ ویسٹ کے حوالے سے آئی ہیں پہلی مرتبہ کلائمیٹ مارچ ہوا جو کہ خوش آئند ہے۔ ڈپٹی سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ذالوجیکل سروے آف پاکستان نے 1947 سے اب تک سپیشیز کے حوالے سے ریڈ نہیں بنائی رواں سال سروے کیا جارہا ہے پاکستان کی ریڈ ڈیٹا بک بننے جا رہی ہے۔ ڈی جی ادارہ تحفظ ماحولیات نے کہا کہ غیرمعیاری شاپر بیگ چھوٹے دکانوں پر کچھ لوگ موٹر سائیکل پر آ کر فروخت کر کے جا رہے ہیں ان کو بتایا جاتا ہے کہ اس پر سٹمپ لگا ہوا ہے لوگوں کو پتہ نہیں اس لئے خرید رہے ہیں ای پی اے نے نیشنل پارک کی زمین کو ریسٹورنٹ کو دینے کی مخالفت کی تھی سارا کچھ ریکارڈ پر ہے، اب بھی ای پی اے اس کی مخالف ہے ریسٹورنٹس کیلئے زمین ای پی اے نے نہیں، سی ڈی اے نے دی ہے جس پر رکن کمیٹی شاہدہ رحمن نے کہا کہ کچھ دکانوں پر لوگ خاص سٹمپ لگے پلاسٹک بیگز استعمال کر رہے ہیں یہ بیگز پارلیمنٹ کے اندر شاپ میں بھی دستیاب ہیں سندھ میں بھی پلاسٹک پر پابندی عائد کردی گئی ہے سندھ حکومت نے 18روپے فی بیگ کے حساب سے خواتین کو ٹاسک دیاہے۔ چیئرپرسن کمیٹی منزہ حسن نے کہا کہ اسلام آباد میں گتے کے کاغذ استمعال ہو رہے ہیں ماحول دوست شاپنگ بیگز استعمال کرنا شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے اسلام آباد میں پلاسٹک کے پینافلیکس کے خلاف بھی مہم چلائی جائیں۔ رکن کمیٹی میجر (ر) طاہر صادق نے کہا کہ پلاسٹک بیگز پر پابندی کا دائرہ کار صرف اسلام آباد تک نہ رکھے دیہاتوں کو بھی پلاسٹک فری بنانے کی ضرورت ہے مرگلہ ہلز پر ریسٹورنٹ پر پابند ی نہ لگائی جائے لوگ پارکوں میں جانا چھوڑ دیں گیا اس پر لوگوں کا رش ہوتا ہے، آسان انٹرٹینمنٹ ہے جس کو بند نہ کیا جائے۔ کمیٹی نے مارگلہ نیشنل ہلز پر غیر قانونی طور پر ریسٹورنٹ کیلئے زمین دینے پر سی ڈی اے سے جواب طلب کرلیا۔ سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ بہت سے ملکوں نے 2030 تک گاڑیوں کو الیکڑیک وہیکلز متعارف کرانے کی کمٹمنٹ دی ہے پاکستان میں بھی ماحول دوست گاڑیاں متعارف کرانے کیلئے پالیسی تیار ہے وزیراعظم نے آئیڈیا کی منظوری دیدی ہے فائنل منظوری کابینہ کمیٹی دیگی شروع میں ٹو وہیلرز اور تھری وہیلرز کو فوکس کر رہے ہیں اگلے ایک دو سالوں میں انڈسٹری نہ لگے تو باہر سے گاڑیاں منگوانے پڑیں گی۔ ڈپٹی سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ مارخور کے شکار کیلئے 12 پرمٹ آرہے ہیں پرمٹ کو بڑھانے کیلئے ہم پر بہت دباؤ تھا پہلے سروے کا فیصلہ کیا پھر اس کے بعد کوٹہ بڑھانے یا کم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی میں گاڑیوں میں ناقص کوالٹی فیول کے استعمال کا معاملہ پر رکن کمیٹی سید مصطفی محمود نے کہا کہ ماحول دوست گاڑیوں کی تیاری کیلئے آٹو موبائل انڈسٹری کو ٹیکس چھوٹ دینا ہوگا ناقص کوالٹی کے استعمال کی وجہ فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اگر ماحول کو صاف کرنے کیلئے سنجیدہ ہیں تو فیول کوالٹی کو بہتر کرنا ہوگا ہنڈا کمپنی نے ناقص کوالٹی فیول سے گاڑیاں خراب ہونے کی شکایات کی تھی۔ ایڈیشنل سیکریٹری پٹرولیم تنویر احمد قریشی نے کمیٹی کو بتایا کہ ورلڈ بینک نے کلائمیٹ چینج کی سندھ کی معیشت پر اثرات پر رپورٹ جاری کی ہے سندھ کو آلودگی اور کلائمیٹ چینج کی وجہ سے 7 فیصد جی ڈی پی کا نقصان ہوا۔ پٹرول کا معیار بہتر کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں تیل کے اندر میگنیزیم زیادہ ہے جو ٹائم لائن دی گئی تھی اس پر عمل نہیں ہوسکا اور تاریخ گزر چکی ہے، ہم میگ نیزیم کی مقدار کم کرنے کے حوالے سے کام اوگرا کے ساتھ مل کر رہے ہیں۔ وزارت کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 24 ملی گرام میگنیزیم کی مقدار ہے جوکہ صفر ہونا چاہیے تھی انہوں نے کہا کہ وزارت کو علم نہیں تھا کہ تیل کے کارخانے میگنیزیم ڈال رہے تھے ہنڈا کی شکایت کے بعد اس کا علم ہوا تھا کہ تیل کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے یہ ڈالا جاتا تھا۔ یکم مئی 2019 کو میگنیزیم کو مکمل ختم کرنے کی ڈیٹ لائن دی گئی تھی جو گزر گئی مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔ پہلے 100 سے 200 پارٹ پر ملین میگنیزیم کی مقدار ہوتی تھی اب 24 پارٹ پر ملین ہے جوکہ محفوظ حد ہے۔ جس پر ارکان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمپنیوں کو اپنے ڈیٹ لائن پر عمل کرنا چاہیے تھا مگر وزارت پیٹرولیم ان کی ترجمانی کر رہی ہے لوگ مرتے ہیں تو مرجائے ان کو کوئی فکر نہیں پاکستان میں سب سے سستی انسانی جان بن گئی ہے کسی کا کاروبار میں منافع کم نہیں ہونا چاہیے جب ڈیڈ لائن گزر گئی تو ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔ یکم مئی 2019 کے بعد پیٹرول میں میگنیزیم کی مقدار صفر ہوجانی چاہیے تھی۔ ڈی جی ای پی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ سب سے زیادہ آلودگی ناقص فیول کے استعمال سے ہورہی ہے ابھی تک یورو 2 ڈیزل درآمد نہیں کیا جارہا ہے سلفر کی بھاری مقدار کی وجہ سے انسانی صحت کو سنگین مسئلہ ہے۔ کمیٹی نے ناقص فیول کے استعمال پر وزارت پیٹرولیم اور متعلقہ حکام کو کمیٹی میں طلب کرلیا، منزہ حسن نے کہا کہ ہر صورت پیٹرولیم کا معیار بہتر ہونا چاہیے انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔ وزارت پیٹرولیم کے حکام نے کہا کہ اس کے ساتھ ایرانی تیل کا بھی مسئلہ ہے اس کومعیار بھی ٹھیک نہیں ہے جس پر سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ جب یہ مسئلہ شروع ہوا تو ہم نے پاکستانی تیل کے ساتھ ایرانی تیل کا بھی ٹیسٹ کیا مگر ایرانی تیل پاکستانی تیل سے بہتر تھا اس میں میگنیزیم اور سلفر کی مقدار نہیں تھی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

IoBM Squash Satellite Championship 2026 Concludes Successfully in Karachi

By Zeeshan Hussain Karachi: The inaugural IoBM Squash Satellite Championship 2026 concluded successfully after four …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے