کراچی (ویب ڈیسک) ملائیشیا کے قونصل جنرل خیرالنضران عبدالرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام تاجروں اور خصوصی طور پر گھی، تیل اور صابن کی انڈسٹری کے درآمد کاروں کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں جنہیں مزید بہتر بنانے کی کوششوں کو جاری رکھا جائے گا، ہماری کوشش ہوگی کہ تمام پام بائی پروڈکس کی سپلائی نہایت مناسب قیمتوں پر کی جائے تاکہ عام صارفین تک اس کی پہنچ ممکن ہوسکے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار مقامی ہوٹل میں پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیہ میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ریجنل منیجر جوہری منال، رشید جان محمد اور ایسوسی ایشن کے چیئرمین عثمان احمد نے بھی خطاب کیا۔ ملائیشیا کے قونصل جنرل خیرالنضران عبدالرحمن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ملائشیا کے وزراء تجارت کے مابین جلد ہی سود مند مذاکرات ہوں گے تاکہ دونوں اسلامی ممالک کے بزنس مین اور عوام الناس کو اس کا فائدہ پہنچے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سوپ انڈسٹری کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو جلد دور کیا جائے گا تاکہ سوپ انڈسٹری ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے، کراچی میں میرے دفتر میں ایک ٹیم موجود ہے، جو انڈسٹری، صنعتوں کی ترقی اور کاروباری برادری کی خدمت کے لیے کام کررہی ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عثمان احمد نے سوپ انڈسٹری کو درپیش چند مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا وہ ملک ہے جہاں سے سوپ انڈسٹری کے خام مال امپورٹ کیے جاتے ہیں۔ سوپ انڈسٹری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے واشنگ سوپ، ٹائلٹ سوپ، ڈٹرجنٹ پاؤڈر کی سالانہ پروڈکشن کا ڈیٹا، ویلیو ایڈیشن اور سوپ انڈسٹری سے حاصل حکومتی ریونیو کے اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے پاکستان ملائیشیا کے مابین تجارتی معاہدوں کا تذکرہ نیز ایف ٹی اے اور پی ٹی اے کے تحت تجارتی حجم کو اہمیت دیتے ہوئے بتایا کہ سوپ انڈسٹری کے بیشتر خام مال ملائیشیا سے درآمد کیے جاتے ہیں۔
![]()