میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) سندھ میں ہندو برادری کی ملکیتوں مندروں، مذہبی جگہوں اور زرعی اراضی پر قبضے ختم کروانے کے لیئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی روشنی میں قائم کمیٹی کے فوکل پرسن چیئرمین پاکستان ہندو کونسل، پی ٹی آئی ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار نے میرپورخاص ڈویژن میں 100 کے قریب ہندو برادری کی ملیکتوں پر قبضے کے سلسلے میں آج کمشنر آفس میرپورخاص میں اہم اجلاس کیا۔ اجلاس میں کمشنر میرپورخاص عبدالوحید شیخ، ڈپٹی کمشنر میرپورخاص سید مہدی شاہ، ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ ندیم الرحمٰن میمن، ڈپٹی کمشنر تھرپارکر سمیت تمام اضلاع کے اسسٹنٹ کمشنرز مختیار کار اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر رمیش کو بتایا گیا کہ میرپورخاص ڈویژن کے مختلف علاقوں میں ایک سو قریب ہندو برادری کے پلاٹوں، زرعی زمینوں، مندروں، گہو شالہ، مسانوں، دکانوں اور گھروں پر قبضہ کیا گیا ہے جس میں تھرپارکر میں 30، عمرکوٹ 20 اور میرپورخاص میں 12 کیسز بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر رمیش کمار نے کمشنر ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ ہندو برادری کی پراپرٹیز پر قبضے فوری طور پر ختم کروائیں جائیں۔
![]()