Home / Home / سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو جہانگیر ترین سے اختلافات کی بنیاد پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر کا کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس میں انکشاف

سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو جہانگیر ترین سے اختلافات کی بنیاد پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر کا کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس میں انکشاف

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر نے کہا ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو جہانگیر ترین سے اختلافات کی بنیاد پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے عدالت سے نااہل قرار دئیے گئے جہانگیر ترین شوگر کارٹل سمیت بدعنوانیوں میں ملوث ہیں جس پر اسد عمر تنقید کرتے ہے تاہم اب جو اسد عمر کو قائمہ کمیٹی خزانہ کا عہدہ دیا گیا ہے جو ایسا عہدہ ہے جس پر رہتے ہوئے وہ حکمرانوں کے غلط فیصلوں پر تنقید کرسکتے ہیں وہ جمعہ کو پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے سوال پر زبیر عمر نے کہا کہ پارٹی کا اہم اجلاس پیر 20 مئی کو ہوگا جس میں فیصلہ کیا جائے گا حکومت کی ایمنسٹی اسکیم اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے دونوں طرف بیٹھے ہوئے آئی ایم ایف کے نمائندوں نے کیا ہے۔ حفیظ شیخ اور باقر رضا دونوں ان کے نمائندے ہیں اور جس روز بھی یہ دونوں حضرات عہدے سے الگ ہوتے اسی روز پہلی فلائٹ سے بیرون ملک چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو ڈاکو قرار دینے والے عمران خان سب سے بڑے ڈاکو ہے کیونکہ انہوں نے 2000 مشرف کے دورہ حکومت اس کا فائدہ اٹھایا جب انہوں نے لندن کا فلیٹ ظاہر کیا تھا اور دوسری اہم شخصیت فائدہ اٹھانے والوں میں علیمہ باجی ہیں۔ جو اربوں کھربوں روپے کی مالک بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو بتایا جائے کہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی پاکستان میں کتنی پراپرٹیز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر حکومت نے پوری معاشی ٹیم کو تبدیل کیا اور ایسی ٹیم لائی گئی جو آئی ایم ایف کے مقاصد پورے کریں اور اس کے لیے چاہیے ملک گروی رکھنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ دو روز کے دوران روپے کی قدر میں 10 روپے کمی ہوئی ہے اگر یہی صورتحال رہی ڈالر کہا جائے کچھ علم نہیں۔ اسٹاک ایکسینج کی بھی صورتحال اچھی نہیں دو ہفتے کے دوران 15 فیصد کاروبار کم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 ماہ کی حکومت میں 41 لاکھ افراد کو غربت کی لکیر سے نیچے پہنچا دیا ہے اور 11 لاکھ لوگوں بیروزگار کیا ہے۔ حکومت جو 800 روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی بات کررہی ہے اس کا بوجھ براہ راست غریب عوام پر پڑیگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہے کہ حکومت 5 سال مدت پوری کریں لیکن 21 کروڑ عوام کو ان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ اس لیے ہم اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ملکر لائحہ عمل بنائیں گے اگر ہم خاموش رہے تو عوام کا ری ایکشن ہماری جانب مڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی عوام کی امید کی کرن ہے۔ سی پیک کے لیے جو پیسہ لیا گیا وہ 2021 سے قبل واپس نہیں کرنا ہے چین پاکستان کا قریبی دوست ہے اور اس نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔ زبیر عمر نے کہا کہ 10 کھرب روپے روزانہ کرپشن کا رونا رونے والے عمران خان عوام کو بتائے انہوں نے کرپشن روک کر کتنے پیسے جمع کیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ یہ بھی جھوٹ بولا جاتا ہے مسلم لیگ کی حکومت کے خاتمے تک 31 ہزار ارب کا قرضہ تھا حقیقت یہ ہے کہ 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ تھا اور موجودہ حکومت نے اپنے9 ماہ میں 370 ارب کا قرضہ لیا ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

پاکستان ویمنز کا شاندار آغاز زمبابوے کو 168 رنز سے شکست

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے