تازہ ترین
Home / آرٹیکل / کام چور سِی مَیں ۔ ۔ ۔ تحریر : ثناء خان تنولی

کام چور سِی مَیں ۔ ۔ ۔ تحریر : ثناء خان تنولی


رات بھر جاگ کر موبائل کے بٹنوں کو گِھسںے سے لے کر سکرین کو انگوٹھے سے اوپر نیچے۔۔۔۔ اوپر نیچے رگڑتے رگڑتے پوری رات گزر جاتی ہے انگلیاں گھس جاتی ہیں مگر آنکھوں میں مجال ہے جو نیند کی ہلکی سی بھی لہر اُترے۔۔۔۔
رات بھر کشت اُٹھانے اور کڑی محنت کرنے کے بعد بھی سویرے سویرے اُٹھنے والے لوگ واقعی داد دیے جانے کے قابل۔
بھئی مجھ سے تو نہ اُٹھا جاتا رات تین تک موبائل سکرین کو اوپر نیچے گھسیٹے گھسیٹے، تھک جاتی ہوں میں تو۔۔۔۔ اور پھر "ادبی ذوق رکھنے والوں میں جب اُٹھنا بیٹھنا ہو ایسے باذوق افراد کے حلقہ انتخاب کی دلگداز تحریروں سے لُطف اندوز ہو کر بھلا سرگی ویلے کون اُٹھ کر اُسی منحوس ماحول میں دن بھر خاک چھانتا پھرے”۔۔۔۔۔
جب سے ہوش سنبھالا اماں نے بچپن کی شوخیاں چھینی کچھ ایسے کہ، بستہ تھمایا اور ایک ظالم مردانہ صورت چیختی چلاتی نوچ کھانے کو تیار رہنے والی اُستانی کے حوالے کر دیا ۔۔۔۔۔
بعد از اسکول۔۔۔ جا پہنچی میں گرتی پڑتی ایک نام نہاد کالج میں، جہاں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت اساتذہ اور چین چھیل چبیلی/شوخی لڑکیوں کے اُلٹے پلٹے فیشن دیکھتے دیکھتے ہم بھی ہو لئے تھوڑے خراب! زیادہ نہیں بس تھوڑے سے!!
شوخ و چنچل مزاج کی لڑکیوں کی صحبت کا اثر ہم پر کچھ یُوں اُترا کہ اب بستے میں کتابوں سے زیادہ "آلاتِ حلیہ سنوار” کنگی شیشہ ،کاجل، مسکارا اور ایک عدد ہلکی گلابی سُرخی تو ہر وقت موجود رہنے لگی…
نہ نہ کرتے اس سے جان چھوٹی، تو ایک بات تو ٹھان لی "بہت اُٹھ لئے سویرے سویرے
اب نہ کریں گے کام بھتیرے”۔
کالج کی تعلیم کے بعد یہ حتمی فیصلہ کر لیا ‘ نا بھئی نا۔۔۔
”جانے کو جائے جان’ مگر،،۔
ہم نہ کریں گے اب کوئی کام”۔
نہ تو ہیں سر پر کوئی سینگھ
نہ ہی شکل سے لگتے ہیں ہم مسٹر بین”۔
یائے بچوں پر بھلا کون ماں اتنا ظلم کرتی ،۔
ھائے !!! مگر میری اماں نہ پوچھو۔۔۔۔
انہیں کانٹے کی طرح چھبتا ہے میرا فارغ بیٹھ کر ناخنوں پر رنگ برنگی نیل پالشیں لگانا، اور اس سے بھی زیادہ آٹا نہ گوندھنے اور برتن مانجھنے کیلئے یہ بہانہ بنانا ،۔
” کہ میرے ناخن ٹوٹ جائیں گے”۔
مگر یُوں تو ہم بھی نہیں تھے باز آنے والے، قسم کھا لی ہم نہ اُٹھیں گے مُرغے کی بانگ ویلے۔۔۔
نہ کام نہ کوئی کاج، ایک نیند ہی سے تو جم کر بنتی ہے ہماری اب کے اُس سے بھی بگاڑ لیں کیا۔۔۔؟۔
اور پھر مشکل سے رات کی سیاہی میں دو چار گھنٹے فرصت کے نصیب ہوتے ‘دماغ میں آئی کہانیوں کو کاغذ پر اُتارنے کے،۔
دن بھر بچوں کی چُوں چاں۔۔۔۔ چُوں چاں!!!۔۔۔
اور اماں کے وہی بہوؤں والے طعنے ،کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔۔۔
اماں۔۔۔۔!!!۔
اماں سے یاد آیا اماں تو چاہتیں بھی نہیں کہ میں کچھ لکھوں، انہیں یہ سب نا وقت کی بربادی کے سوا کچھ بھی نہیں لگتا، اُن کی نظر میں کام کاجی عورت وہ ہوتی ہے جو مغرب ہوتے ہی کھا پکا کر سب گھر والوں کو پیش کرنے کے بعد سو جائے، اور سَتے سویرے ملاں کی پہلی ازان کے ساتھ ہی اُٹھ کھڑی ہو ، دو چار بھینسیں رکھ لے، ان کا دودھ دھوئے، گوبر اُٹھائے، اور پھر کھیتوں میں تھوڑا سا ہَل بھی چلا لے تو کیا ہی بات۔۔۔
تب کہیں جا کر کام کاجی عورت کا تمغہ امتیاز اپنے نام کرے ۔۔۔۔
اُنہیں صنفِ نازک یعنی کہ مجھ میں وہ تمام مردانہ خُوبیاں چاہییں جو پڑوس کی آسیہ کی بیٹیوں میں پائی جاتی ہیں ،۔
چھ چھ گھنٹے’ برتنوں والی تاروں سے فرش کو گِھسنا اور پھر اگلے چھ گھنٹے پنکھے کیساتھ لٹک جانا (میرا مطلب پنکے کو مانجھنا)۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آااااہ!!!۔۔۔۔
اتنے طعنے اگر جو کبھی بہو کو دئیے ہوتے ناں تو قسم خدا کی ‘آج ہمارے گھر کا فرش بھی شیشے کی طرح جگ مگ جگ مگ چمک رہا ہوتا، اور اُس پر بچھی مخملی قالین پر چلتے وقت میرے نرم و نازک پیر اس کےسلجھے ہوئے ریشوں میں دھنس رہے ہوتے، ۔
نہ کہ، ایک ایک اِنچ مٹی کا زخیرہ ہاتھ لگائے حلق میں جا اُترتا۔
اور ایک اور بات…
"ہمارے اعلی گھرانے میں اگر کسی بات کو ترجیح دی جاتی ہے، تو وہ ہے کاغذی ‘ڈگریوں کی تعداد۔۔۔!۔
جی ھاں!۔
جتنی مقدار میں ڈگریاں لائی جائیں اس کی اتنی ہی عزت، بس ڈگریوں کی قلت ہے میرے پاس’ اور اس مقام کی جو باقی بہن بھائیوں کو اماں کی نظر میں حاصل ۔۔۔
عقل تو مجھ میں ایسی کہ بس ۔۔۔۔ ایسی ویسی !!۔
لال سُرخی کی بیسوں الگ الگ رنگوں پر بھلے تبصرہ کروا لو مجھ سے، یہ ۔”کاشی اور عتیقہ اوڈھو کس کھیت کی مُولی بھلا میرے آگے۔۔۔۔
۔”بس اِک اماں کو نہ دِکھتی’ اپنی بیٹی سیانی”۔

حسن ابدال، ضلع اٹک

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

مسیحا نما جلاد ! ۔۔۔ تحریر : شاہد مشتاق

وہ رمضان 6 جون 2017ء کا ایک ابر آلود دن تھا مجھے لمبے عرصے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے