راجن پور (رپورٹ: انعام باری) جام پور تاریخی، ثقافتی، تعلیمی اور تجارتی شہر ہے جس کی آبادی تقریباً دولاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے مگر اس کے قدرتی و فطرتی حسن کو بے ہنگم ٹریفک کے نظام و ناجائز تجاوزات مافیا قبضہ گروپوں، غیر قانونی ویگن و ٹیکسی مافیا اسٹیڈ نے گہنا کر رکھ دیا ہے اور یہ سب کچھ مبینہ طور پر ٹریفک پولیس کی ملی بھگت بھتہ خوری کے باعث ہی ہو رہا ہے ٹریفک پولیس بھاری گاڑیاں، بسز ویگن و ٹرکس بھی اندرون شہر سے بھاری نذرانہ وصولی کے عوض گزار رہی ہے جس سے حادثات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور روزانہ گھنٹوں ٹریفک جام رہنا معمول بن چکا ہے جس سے معمولات ذندگی شدید متاثر ہو کر رہ گئے ہیں اور ٹریفک پولیس شہرسے باہر ناکے لگا کر لوٹ مار میں مصروف ہے جس سے علاقہ مکینوں و شہریوں میں تشویش کی شدید لہر پائی جاتی ہے شہریوں لیاقت علی، محمد یوسف، اللہ وسایا، عابد حسین، الہی بخش، محمد شہباز، محمد انعام، احمد علی، محمد فہیم اور محمد حسن نے آر پی او ڈیرہ غازی خان، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر راجن پور و ڈی ایس پی ٹریفک راجن پور سے ٹریفک پولیس جام پور کی مبینہ بد انتظامی لوٹ مار کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے جب اس سلسلہ میں انچارج ٹریفک پولیس جام پور محمد ریاض کا موقف معلوم کیا گیا تو انہوں نے کہا مجبوری ہے اوپر تک حصہ دینا پڑتا ہے اور افسران کی پھٹیکییں بھی بھگتنی ہوتی ہیں اسلئے مافیاء سے ڈیل بھی کرنی پڑتی ہے۔
![]()