تازہ ترین
Home / اسلام آباد / انصاف کا قتل نہ کرو

انصاف کا قتل نہ کرو

اسلام آباد (رپورٹ: محمّد جواد بھوجیہ) آزاد کشمیر کے ضلع حویلی، گاؤں ہالن شمالی کے دو سگے بھائیوں کو 2013 میں انتہائی وحشیانہ انداز میں قتل کیا گیا تھا۔ جس پہ سپریم کورٹ آزاد کشمیر کا حالیہ فیصلہ ورثاء کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ دو سگے بھائیوں محبوب اور نعیم کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ ان کی نعشوں کو مسخ کر کے ویرانے میں پھینک دیا گیا تھا, گرفتاری کے بعد ملزمان نے اعتراف جرم کیا اور نعشوں کی نشاندہی کی جس کے بعد نعشیں برآمد کی گئی تھیں۔ سیشن کورٹ حویلی کہوٹہ میں اعتراف جرم کے بعد آلہ قتل بھی ملزمان نے خود عدالت کے سامنے پیش کیا جس پر عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے 25 سال قید اور دس دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی اپیل کی صورت میں ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھا۔ جس کے بعد مجرموں کو بچانے کیلئے ان کے ورثاء سپریم کورٹ چلے گئے جہاں سپریم کورٹ نے مجرموں کے اعتراف جرم, ان کی نشاندہی پر نعشوں کی برآمدگی اور آلہ قتل کی برآمدگی کے باوجود بھی سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیکر خطرناک مجرموں کو بری کرتے ہوئے کھلی چھوٹ دیدی۔ مقتولین کی والدہ نے انصاف نہ ملنے پر سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے سامنے خود سوزی کرنے کی دھمکی دے دی انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس آزاد کشمیر نئے سرے سے اس کیس کی تفتیش کروائیں۔ مقتولین کے ورثاء اور اہلیان حویلی کا خطرناک مجرموں کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر شدید تشو یش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دیا ہے۔ ورثاء نے عدالت سے اپیل کی کہ الحاج اشرف قریشی کیس کے فیصلے کی طرح اس فیصلے پر بھی نظر ثانی کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے تفصیلات کے مطابق مقتولین کی والدہ نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے قتل نہیں کیا تھا تو انہیں یہ کیسے پتہ تھا کہ نعشیں کہاں پڑی ھیں۔اگر قتل نہیں کیا تھا تو آلہ قتل کیوں جمع کروایا؟ مقتولین محبوب اور نعیم کی والدہ  نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں دوران پریس کانفرنس زارو قطار رو پڑی۔ سپریم کورٹ سے ملزمان کو بری کیے جانے پر مقتولین کی والدہ نے کہا کہ اگر بری کیے جانے والے بے گناہ ہیں تو پھر میرے بیٹوں کے قاتل کون ہیں جبکہ انھی ملزمان کی نشان دہی پہ میرے بیٹوں کی مسخ شدہ نعشیں درجنوں لوگوں اور پولیس کی موجودگی میں برآمد کیں تھیں۔ اب عدالت مجھے انصاف دے، مقتولین کی والدہ کا موقف تھا کہ اگر بری کیے جانے والے ملزمان بے گناہ ہیں تو پھر عدالت کو چاہیے تھا کہ کیس کی از سر نو تحقیقات کا حکم دیتی، اور میرے بیٹوں کے اصل قاتلوں کو سامنے لانے کا حکم دیتی۔ مقتولین کی والدہ کا کہنا تھا کہ میں انصاف کے حصول کے لیے ہر دروازہ کھٹکاؤں گی اور اگر عدالت کی طرف سے انصاف نہ ملا تو سپریم کورٹ کے سامنے خود سوزی کر لوں گی۔ میں معزز چیف جسٹس سپریم کورٹ اور وزیراعظم آزاد کشمیر سے اپیل کرتی ہوں کہ اس کیس کی دوبارہ از سرنو تحقیقات کا حکم دیں اور میرے بیٹوں کے قاتلوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش جب تک کہوٹہ تھانہ میں رہی تو ملزمان سے سچ نہ اگلوایا جا سکا۔ جیسے ہی ہماری درخواست پہ تفتیش باغ میں منتقل کی گئی تو وہاں کے پولیس آفیسر، ڈی ایس پی یاسین بیگ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے ملزمان سے سچ اگلوا کے دوسری لاش اور آلہ قتل برآمد کروا لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انصاف کی یہی حالت رہی تو حویلی میں جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں کئی اور ماؤں کے بیٹے بھی ایسے ہی بے گناہ قتل ہوتے رہیں گے اور اگر عدالتوں سے انصاف نہ ملا اور اسی طرح کے فیصلے آتے رہے تو پھر لوگ اپنی عدالتیں خود ہی لگائیں گے. ہم غریب لوگ ہیں. کوئی زریعہ معاش نہیں گھر میں فاقے پڑ رہے ہیں۔ مقتولین کی والدہ کا کہنا تھا کہ اگر ریاست کی سب سے بڑی عدالت ایسے ہی قاتلوں کو باعزت بری کرتی رہی تو پھر معاشرے میں ہر کوئی دو چار افراد کو قتل کر کے باعزت بری ہونے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرتا پھرے گا۔ اس موقع پرسول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں راحیلہ خان، ماریہ اقبال ترانہ اور فاطمہ انور سدوزئی نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا. انہوں نے کہا کہ اگر ملزمان بے گنا ہ ہیں تو پھر نعیم اور محبوب کے قاتل کون ہیں اور ان کو سزا کون دے گا۔؟ ہمیں اعلیٰ عدالتوں پر اعتماد ہے اور یہ اعتماد بحال رہنا چاہیے۔ اعتماد اسی صورت میں بحال رہ سکتا ہے جب متاثرین کو انصاف ملے گا ورنہ لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جب عدالتیں کسی مقتول کے قاتل کو سزا نہ دیں تو پھر ورثا کے پاس صرف ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ خود خون کا بدلہ خون سے لیں تو پھر ریاست کی ذمہ داری کیا رہ جاتی ہے؟ اس کیس کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔ امید ہے سپریم کورٹ الحاج اشرف قریشی قتل کیس کی طرح اس کیس میں بھی اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے مجرموں کو قرار واقعی سزا دے گی۔ ورنہ اللہ کی عدالت سب سے بڑی ہے اور وہ اپنا فیصلہ ضرور سناتی ہے. نعیم اور محبوب کے لواحقین عدالتی فیصلہ سے غم میں نڈھال ہیں ہماری تمام ہمدردیاں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں۔ اگر الحاج اشرف قریشی قتل کیس میں غلطی کا ازالہ ہو سکتا ہے تو نعیم اور محبوب قتل کیس میں بھی کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نعیم اور محبوب کے ورثاء انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں اگر ہم معاشرے سے ظلم اور نا انصافی ختم نہ کرسکے تو ہماری نمازیں ہمارے کام نہیں آسکتیں۔ ہم چیف جسٹس آف پاکستان وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف سے اپیل کرتے ہیں کہ ہم غریبوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے