تازہ ترین
Home / اہم خبریں / خسرہ انتہائی توجہ طلب بیماری ہے اس میں لاپرواہی جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے- ڈاکٹر خالد شفیع جنرل سیکریٹری پی ڈی اے سندھ

خسرہ انتہائی توجہ طلب بیماری ہے اس میں لاپرواہی جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے- ڈاکٹر خالد شفیع جنرل سیکریٹری پی ڈی اے سندھ

کراچی (رپورٹ ذیشان حسین) پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سندھ برانچ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر خالد شفیع ، ڈاکٹر ممتاز لاکھانی اور ڈاکٹر وسیم نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوۓ کہا ملک میں انسداد خسرہ مہم کا آج سے آغاز ہوگیا ہے- آج سے 12 روزہ خصوصی مہم کا آغاز جارہا ہے جوکہ 28 اکتوبر تک جاری رہے گی اس مہم میں 352 ملین بچوں کو خسرہ کے ٹیکے لگائے جائیں گے تاکہ مقرہ ہدف پورا کیا جا سکے اس مہم میں ابھی 9 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں کو شامل کیا گیا ہے رواں سال خسرہ جیسی مہلک بیماری سے 297 بچے ہلاک ہو چکے تھے- بچے صحت مند معاشرے کی علامت ہیں ملک کی ترقی بچوں کی صحت سے وابستہ ہے بچوں کو صحت مند رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہئے- ڈاکٹر خالد شفیع نے خسرہ کی بیماری پر روشنی ڈالتے ہوۓ کہا کہ خسرہ بیماری تاریخی اہمیت کی حامل ہے اور یہ انتہائی توجہ طلب بیماری ہے اگر اس میں کسی بھی قسم کی کوئی لاپرواہی کی گئی تو یہ بیماری پھیلتی جاتی ہے اور ایک سے دوسرے میں تیزی سے منتقل ہوتی ہے اس بیماری سے بچوں کو تیز بخار اور نمونیہ پھیلنے کا شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے اس مرض کو ہرگز بھی آسان نہیں لینا چاہیے- والدین کو اپنے بچوں کو پابندی کے ساتھ خسرہ سے بچاؤ کے احتیاطی ٹیکے لازمی لگوانے چاہیے خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے 9 ماہ سے 22 سال کی عمر تک کے لوگوں کو لگوانے چاہیے- خسرے سے بچاؤ کے ٹیکے کو زندگی میں ایک بار لگوانے سے اس مرض سے مکمل بچاؤ نہیں ہوتا کیونکہ خسرہ کے ٹیکے کے اثر 10 سے 15 سال تک جسم میں رہتا ہے اس لئے خسرہ سے بچاؤ کے لئے زندگی میں 2 سے 3 بار ٹیکوں کو لگوانا چاہیے اس کوئی مُمانعت نہیں ہے کیونکہ یہ بیماری ایک وائرس کی طرح ہے جو تیزی سے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتی ہے اگر کسی بچے کو خسرے کا ٹیکہ اوائل عمری میں لگا تھا تو وہ نوجوانی کی عمر میں یہ ٹیکہ دوبارہ بھی لگوا سکتا ہے- اگر اس کا ٹیکہ بروقت نہ لگایا جائے اور اس میں غفلت برتی جائے تو اس کے یہ خسرہ کی بیماری کا اثر دماغ پر بھی پڑنے کا اندیشہ رہتا ہے- دنیا کے بیشتر ممالک نے اپنی عوام کو اس خطرناک بیماری سے چھٹکارا دلوا دیا ہے مگر بدقسمتی سے صوبہ سندھ حکومت سندھ اور صوبائی محکمہ صحت کی نااہلی کی وجہ سے سندھ کے لوگوں میں اس کے ٹیکے 30 فیصد لوگوں کو ہی لگ پاتے ہیں جبکہ پاکستان میں اس کی شرح بھی بہت کم ہے پاکستان میں کم سے کم 90 فیصد لوگوں کو خسرہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگنے چاہئے- جن بچوں کو 12 تاریخ سے قبل خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگ چکے ہیں ان بچوں کو مہم کے دوران دوبارہ ٹیکے لگائے جائیں انہوں نے کہا کہ اگر محکمہ صحت کی ٹیم کسی کے گھر تک نہ پہنچ سکے تو منتخب سینٹر پر اپنے بچوں کو پہنچانا ہوگا تاکہ ان بچوں کو اور ان کے مستقبل کو بیماریوں سے محفوظ کیا جائے-

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے