اسلام آباد ( تجزیہ: محمد جواد بھوجیہ ) ملک بھر میں 11 قومی اور 25 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر آج انتخاب ہوگا، تاہم اس ضمنی الیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ اہم ترین ہونے کے باوجود کسی بھی سیاسی جماعت نے اس کو اہمیت نہ دی، حالانکہ آج کے ضمنی انتخاب قومی اسمبلی اور خاص طور پر پنجاب اسمبلی میں حیران کن اور ڈرامائی صورت حال پیدا کرسکتا تھا- اگر اپوزیشن اتحاد یکجا ہوکر شاندار انتخابی مہم چلاتا تو پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو چلتا کرسکتے تھے تاہم حمزہ شہباز شریف کے علاوہ کسی بھی بڑی شخصیت نے بڑے جلسہ عام منعقد نہ کیے یوں یقیناً سیاسی ورکرز کے لیے مایوس کن صورت حال تھی- اگر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی پوزیشن کو دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کو مسلم لیگ ن پر 13 نشستوں کی برتری حاصل ہے وہیں اب پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی 13 نشستوں پر ضمنی انتخاب ہونا ہے اگر مسلم لیگ ن ضمنی انتخاب میں بڑی الیکشن کمپین چلاتی تو پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی صورت حال کو بد ل سکتی تھی تاہم سیاسی ماہرین حیران ہیں کہ مسلم لیگ ن نے ایسا کیوں نہیں کیا- قومی اسمبلی کی جن 11 نشستوں پر کل ضمنی انتخاب ہونا ہے ان میں سے 9 پنجاب کی ہیں جن میں تین پر مسلم لیگ پی ٹی آئی کو شکست دے سکتی ہے وہیں باقی ماندہ 6 نشستوں پر مسلم لیگ نے انتہائی کمزور امیدوار میدان میں اتارے ہیں- میاں نواز شریف اور مریم نواز ضمانت پر رہا ہونے کے باوجود ضمنی انتخاب سے لاتعلق رہے جس نے ان کے سیاسی مستقبل پر بہت سارے سوالات اٹھا دیے ہیں وہیں پاکستان پیپلز پارٹی ان تمام انتخابات سے غیر متعلق نظر آتی ہے- پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی اور صوبائی حکومت پر اس حوالے سے ضمنی انتخاب پر اثر انداز ہونے کا کوئی الزام سامنے نہیں آیا جو یقیناًایک خوش آئند امر ہے وہیں جمہوریت کے لیے ایک اچھا شگون ہے-
![]()