کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی پریس کلب کے باہر سرجانی ٹاؤن کی رہائشی خاتون سیما جتوئی نے احتجاج کرتے ہوۓ نمائندہ نوپ نیوز کو بتایا کہ میں یہ احتجاج سرجانی ٹاؤن پولیس کے خلاف کر رہی ہوں کچھ عرصے قبل سرجانی ٹاؤن کی پولیس نے میرے بھائی اظہر بروہی کو گھر سے لے جاکر گم کردیا تھا میں نے سندھ ہائی کورٹ میں میں پٹیشن دائر کی آۓ دن گھر پر پولیس کی چڑھائیاں، دھمکیاں دینا کہ کورٹ ہمارا کیا کرے گی اور ہماری تذلیل کرنا روز روز کی پولیس گردی اور تذلیل سے تنگ آکر میرے نوجوان 16 سالہ بیٹے بلال نے خود کشی کرلی- سندھ ہائی کورٹ کے سخت ایکشن پر میرے بھائی اظہر کو رہا کیا گیا لیکن پولیس نے اپنی انتقامی کاروائی کی اور بدلہ لینے کے لئے میرے شوہر ولی محمد جتوئی کے سامنے اپنا مخبر کھڑا کر کے جھوٹا کیس بنایا گیا- ہم بہت لاچار ہیں اور غریب ہیں ہمیں انصاف دلایا جائے اور ان ظالم اور غریب دشمن عناصر سے تحفظ دلایا جائے- میری مدد کے لئے جو ساتھ دینے کی کوشش کرتا ہے اسے بھی یہ ظالم پولیس والے جھوٹے مقدموں میں پھنسا دیتے ہیں- میں اپیل کرتی ہوں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، وزیراعلی سندھ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے کہ وہ مجھے اور میرے خاندان کو تحفظ اور انصاف دلوانے میں میری مدد کریں-
![]()