کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ کراچی کی آبادی کے درست اعداد و شمار عوام کے علم میں لائی جائیں، الیکشن کمیشن اور مردم شماری کے اعداد و شمار میں تضاد ہے۔ اعداد و شمار کے تعین کے بغیر جنرل الیکشن اور لوکل باڈیز کی حلقہ بندی کیسے صحیح ہو سکتی ہے؟ کراچی کے ساتھ کون کھیل رہا ہے؟ کراچی کی پسماندگی کس کے مفاد میں ہے؟ تضادات اور کنفیوژن دور کرنے کے لئے نئی مردم شماری اور اس کی حلقہ بندی کی جائے۔ کراچی کی آبادی کو کم دکھا کر اس کے حصے کے ترقیاتی فنڈز کہاں استعمال کئے جارہے ہیں؟ مردم شماری میں عارضی پتہ والے افراد کو مقامی تصور کیا جائے کیونکہ وہ شہر کے وسائل استعمال کرتے ہیں۔ کراچی جیسا شہر جو پورے ملک کو روزگار فراہم کرتا ہے، کو خود غرضی کی بنیاد پر بننے والے مسائل کی تقسیم کے فارمولے کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے الیکشن کمیشن کی قومی اسمبلی کی نئی حلقہ بندیوں کے شیڈول پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری پر خدشات درست ثابت ہوئے۔ الیکشن کمیشن نے کراچی کی قومی اسمبلی کی نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کردیا ہے۔ اس شیڈول کے حوالے سے کراچی میں ٹوٹل ووٹرز کی تعداد الیکشن کمیشن کے مطابق 2 کروڑ 39 لاکھ 35 ہزار 702 ہے جبکہ مردم شماری میں کراچی کی کل آبادی ڈیڑھ کروڑ بتائی گئی ہے۔ ڈھائی کروڑ کے قریب ووٹ اور ڈیڑھ کروڑ آبادی، سمجھ سے باہر ہے۔ تضاد سے ثابت ہو گیا ہے کہ کراچی کو آبادی کے تناسب سے وسائل میں حصہ نہیں دیا جا رہا۔ کراچی میں ہر سال پندرہ فیصد لوگ حصول روزگار کے لئے آتے ہیں۔ جن میں سے اسی فیصد یہیں سکونت اختیار کر لیتے ہیں لیکن ڈومیسائل پرانا استعمال کرنا چاہتے ہیں جس کی بناء پر کراچی کو وسائل میں مناسب حصہ نہیں مل رہا ہے۔ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر، معاشی حب آج خود معاشی بدحالی اور بیروزگاری کا شکار ہے۔ سندھ اربن کو دانستہ کم دکھا کر اس کا حق نہیں دیا جا رہا جو کھلی ناانصافی ہے۔ میگا سٹی کراچی، منی پاکستان، ملک کا سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے۔ کراچی کی حق تلفی کر کے کراچی کو کھوکھلا کر دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت نے کراچی کی سیٹیں امیر زادوں کو بیچ دی ہیں جنہیں کراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کراچی سندھ حکومت کے ہاتھوں یرغمال بنا ہو اہے۔ ساڑھے چار کھرب مرکز کو ٹیکس دینے کے بعد اس کے حصے میں صرف بائیس ارب روپے آتے ہیں۔ جبکہ پورے ملک سے ایک کھرب روپے ٹیکس جمع ہوتا ہے۔ تین کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر کو بیس بائیس ارب روپے دینا اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے۔ کراچی کا جمع ہونے والا کھربوں روپے کا ٹیکس صوبائی اور مرکزی حکومتیں ہڑپ کر جاتی ہیں۔ سندھ حکومت کی لاپرواہی اور نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے کراچی شہر دن بدن پسماندہ شہربنتا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت کراچی شہر کے ساتھ مقبوضہ شہر والا سلوک کر رہی ہے۔ الطاف شکور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کراچی سے سوتیلی ماں جیسا سلوک برداشت نہیں کریں گے۔ کراچی سب کا ہے لیکن کراچی کا کوئی نہیں ہے۔ زمینی حقائق کو اگر مسلسل نظر انداز کیا گیا تو پاسبان کراچی کے حقوق کے لئے تحریک چلائے گی۔
![]()