ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ڈیرہ اسماعیل خان شہر اور گرد و نواح میں ضلعی انتظامیہ کی ہدایت کے باوجود عطائی ڈاکٹروں اور نیم حکیموں کے خلاف کاروائی التوا کا شکار ہوکر رہ گئی، سینکڑوں کی تعداد میں چلنے والے عطائیوں کے کلینک شفا کے نام پر موت بانٹنے میں مصروف ہیں ان عطائی اڈوں پر ہر قسم کے علاج کے علاوہ ڈلیوری سمیت تمام تر آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں جہاں آئے روز کسی نہ کسی کی موت ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود نہ تو قانون حرکت میں آتا ہے اور نہ ہی محکمہ صحت کی ضلع بھر میں کوئی رٹ دکھائی دیتی ہے، یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے حالیہ کاروائیوں کے بعد نامور ڈاکٹرز کے نام استعمال کرنے کا رجحان زور پکڑتا جا رہا ہے جن کی آڑ میں غیر مستندد اور ان پڑھ افراد علاج معالجہ کے نام پر سرعام انسانی زندگیوں سے کھیلنے میں مصروف عمل ہیں، اور باعث تشویش امر یہ ہے کہ چند روز قبل ہی اعلی انتظامیہ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں خفیہ اور اعلانیہ کاروائیوں کا جو آغاز کیا تھا اس کے بھی تاحال کوئی نتائج سامنے نہیں آئے، اور صورتحال بدستور جوں کی توں ہے۔
![]()