تازہ ترین
Home / اہم خبریں / ملک سے طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کے ذریعے ہی حقیقی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی الطاف شکور

ملک سے طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کے ذریعے ہی حقیقی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ ملک میں طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے اور مادری زبان میں بچوں کوسائنٹیفک طریقے سے تعلیم کے ذریعے ہی حقیقی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ پرائمری سطح تک بچوں کو اُن کی مادری زبان میں تعلیم دی جائے تاکہ ان کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آسکیں۔ ہر زبان کے ماہرین کو جمع کر کے مادری زبان میں علم و سائنس کی تعلیم دی جائے۔ سائنسی، اقتصادی، معاشی اور معاشرتی علوم کو اردو اور مقامی زبانوں میں ترجمہ کر کے نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ تمام زبانوں کے حروف تہجی کو ملا کر ایک نئی زبان تخلیق کی جائے جسے عام فہم مقامی اردو کا نام دیا جائے۔ پی ٹی آئی حکومت اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کرے۔ ایک نصاب، ایک یونیفارم اور ایک امتحانی بورڈ بھی رائج کیا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ یوم عالمی مادری زبان پر جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے کہا کہ جدید سائنسی، اقتصادی، معاشی اور معاشرتی علوم کو سلیس اردو اور مقامی زبانوں میں ترجمہ کر کے نصاب کا حصہ بنا دیا جائے توطلبہ کے لئے سیکھنے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں ایک ایک کرکے ختم کی جاسکتی ہیں۔ اس اہم قومی فریضہ کی ادائیگی کیلئے ملک و قوم سے محبت کرنے والے مخلص اہل علم کو آگے آنا ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک اپنے ملک کے بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دینے کی اہمیت جان چکے ہیں اور ہم ابھی تک منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی زبان سیکھنے میں برسوں لگا دیتے ہیں حالانکہ کوئی بھی زبان چند ماہ میں سیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دی جائے تو ہمارا ٹیلنٹ دنیا میں کسی سے پیچھے نہیں۔ الطاف شکور نے تعلیمی نظام کو آسان اور عام فہم بنانے اور اس کی ترقی کے لئے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں کے حروف تہجی کو ملا کر ایک نئی زبان بھی تخلیق کی جاسکتی ہے۔ ایک رسم الخط اور ایک حروف تہجی، اردو کے تیزی سے فروغ اور عام فہم مقامی اردو بنانے کی راہ ہموار کرے گا جسے بولنے اور سمجھنے میں کسی بھی علاقائی زبان بولنے والے کو دشواری نہیں ہوگی اور جسے فخر کے ساتھ پاکستانی زبان کہا جاسکے گا۔اس مقصد کے حصول کے لئے تمام مادری زبانوں کی تخلیق اور نشوونما از حد ضروری ہے۔ ملک میں موجود ہر شہری کا حق ہے کہ وہ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرے۔ ہمیں پاکستان کی تمام مقامی زبانوں کو کھلے دل کے ساتھ قبول کرنا چاہیئے۔ ایسے طریقے استعمال کرنے چاہئیں جن سے زیادہ سے زیادہ پاکستانی شہری مقامی زبانوں میں بولنے، پڑھنے اور لکھنے کے قابل بنائے جاسکیں اور خواندگی کی شرح بڑھائی جا سکے۔ پرائمری کی سطح تک دی جانے والی تعلیمی زبان مادری ہونی چاہیئے تاکہ ہر بچہ تعلیم کے مقصد سے بہرہ مند ہو سکے اور اپنا مافی الضمیر با آسانی سمجھا بھی سکے۔ الطاف شکور نے سوال کیا کہ جب پاکستان میں مختلف قومیں رہتی ہیں تو مختلف زبانوں میں تعلیمی نظام کیوں رائج نہیں ہو سکتا؟ ہم سب کو نسلی اور لسانی اختلافات کو بھلا کر اپنی نسلوں ور وطن کی بقاء کے لئے تعلیمی نظام کی بہتری کی کوششیں کرنا ہوں گی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

پی سی بی انٹر کلب چیمپئن شپ کا افتتاح، میرا مقصد کراچی میں کلب کرکٹ کو فروغ دینا ہے، پروفیسر اعجاز فاروقی

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کراچی زون سات کے زیر اہتمام پروفیسر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے