کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ تیرہ سال قبل آج ہی کے دن بھارت میں ہونے والے سمجھوتہ ایکسپریس آتشزدگی حادثہ کے بعد بھارت میں قید پاکستانی محمد عرفان سمیت 110 شہری لاپتہ ہیں، جنکی زندگی یا موت کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ پاکستانی حکومت راجہ محمد عرفان سمیت تمام پاکستانی لاپتہ افراد کی فوری رہائی کے لئے اعلی سطح پر اقدامات کرے۔ سمجھوتہ ایکسپریس بھارتی خفیہ ایجنسیوں اور مودی سرکار کی پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور سازش تھی جسے بھارتی عدالت میں بے نقاب کیا جا چکا ہے۔ کیا عام پاکستانیوں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے؟ عمران خان بھی زرداری اور نواز شریف کے نقش قدم پر چل رہے ہیں؟ پاکستانی وزارت خارجہ انسانیت کی اس تذلیل پر بھارتی حکومت سے سختی سے جواب طلب کرے۔ بھارت ہمیشہ پاکستان کو سفارتی اور زمینی سطح پر نقصان پہنچانے کے درپے رہا ہے۔ پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ کی عالمی عدالت انصاف میں اس معاملے کو اٹھایا جانا چاہیئے۔ پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے پاسبان پبلک سیکریٹریٹ میں بھارتی جیل میں قید بے گناہ محمد عرفان کے بھائی مبشر حسین سے ملاقا ت کی۔ اس موقع پر پاسبان کراچی کے جنرل سیکریٹری سردار ذوالفقار اور دیگر اہم رہنما بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران الطاف شکور نے بھارتی حکومت کی بے حسی اور ڈھٹائی پر انتہائی غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس حادثے میں پاسپورٹ کھوجانے کی بنا پر عرفان کو حراست میں لے کر چار سال کی سزا سنائی گئی تھی جو 2011 میں پوری ہو چکی ہے اس کے باوجود انڈین حکومت نے اسے ابھی تک رہا نہیں کیا۔ 18فروری 2007 کو سمجھوتہ ایکسپریس حادثہ کا بھارتی خفیہ ایجنسیوں اور بھارتی ہٹلر مودی کا مسلمانوں اور پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش کا بھانڈہ بھارتی عدالتوں میں پھوٹ چکا ہے۔ جس کا ثبوت رہائی پانے والے قیدیوں نے بھی دیا ہے جو کئی سالوں کی سزا کاٹنے کے بعد بھارت سے پاکستان پہنچے تھے۔ اس کے باوجود بھارت اپنی ازلی ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں زندہ بچ جانے والا پاکستانی نوجوان محمد عرفان بھی کمپیوٹر پرزہ جات خریدنے بھارت گیا تھا۔ واپسی میں سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں زخمی ہو گیا جسے ہسپتال میں مردہ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں 2014 میں امرتسر کی جیل سے رہائی پانے والے ایک پاکستانی نوجوان شوکت نے عرفان کے اہل خانہ کو بتایا کہ عرفان امرتسر کی جیل میں قید ہے۔ جس کے بعد اہل خانہ نے عرفان کی رہائی کے لئے کوششیں شروع کیں۔الطاف شکور نے پاکستانی حکومت، وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اورچیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ سمجھوتہ ایکسپریس آتشزدگی کے متاثرہ افراد کے خاندانوں کی داد رسی کی جائے اور اس معاملے کو سرکاری سطح پر اٹھایا جائے۔ وزارت خارجہ فوری بھارتی حکومت سے محمد عرفان سمیت تمام پاکستانی بے گناہ قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرے۔ پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے تیرہ سال گذرنے پر بھارتی حکومت کی جانب سے ہر سال ان زخموں کو تازہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانی قوم سمجھوتہ ایکسپریس متاثرین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور آخری پاکستانی شہری کی وطن واپسی اور اس کی نعش کی واپسی تک جدو جہد جاری رکھے گی۔
![]()