میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) ڈپٹی کمشنر میرپورخاص زاہد حسین میمن نے کہا ہے تاریخ کے اوراق میں غریبوں کی مدد کرنے والوں کو کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا ہے ہرفرد اپنے لئے تو جیتا ہے لیکن بہتر عمل وہ ہے جو دوسروں کیلئے اپنی زندگی وقف کردے ان خیالات کا اظہارانہوں نے گاؤں مرید کپری میں قطر چیریٹی انٹرنیشنل میرپورخاص کی جانب سے پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کیلئے 25 لاکھ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے پانی کے تالاب کا افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ میرپورخاص میں فلاح و بہبود کی بہت ضرورت ہے میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ میرپورخاص ضلعے کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کروں، انہوں نے کہا کہ پانی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے جس کی قدر کرنی چاہئے دنیا میں زیادہ تر بیماریاں گندے پانی کے استعمال سے ہوتی ہیں جس کی وجہ سے پولیو یرقان اور دیگر پھیلنے والی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ قطر چیریٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بیت المال سوئیٹ ہوم میرپورخاص کیلئے 1 کروڑ 20 لاکھ کی لاگت سے عمارت تعمیر کرکے دی ہے جس کیلئے میرے کہنے پر سماجی ورکر ملک راجہ عبدالحق نے پلاٹ اور نئے زیر تعمیر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کیلئے بھی کچھ زمین دی ہے سماجی رہنما محمد بخش کپری نے قطر چیریٹی انٹرنیشنل کو متعارف کرایا اور ضلع میرپورخاص میں کام کرنے کیلئے تجاویز دیں جو قابل ستائش ہے اس موقع پر قطر چیریٹی انٹرنیشنل کے راجہ حبیب نے کہا کہ ہمارا ادارہ میرپورخاص، ٹنڈو محمد خان، بدین، عمرکوٹ اور حیدرآباد کے دیہی علاقوں میں کام کر رہا ہے ادارے کی جانب سے غربت والے علاقوں میں بنیادی ضروریات پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے تالاب تعمیر کرنے، مساجد تعمیر کرنے، غریبوں کیلئے روزگار فراہم کرنے کیلئے دکانیں تعمیر کرنے اور واش روم تعمیر کرکے دئے گئے ہیں سوئیٹ ہوم کیلئے ہاسٹل تعمیر کرانے کیلئے رقم بھی دی گئی جس میں پلاٹ دینے کیلئے ضلع انتظامیہ نے اپنا کردار ادا کیا ہے اس موقع پر محمد بخش کپری نے کہا کہ ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ دوستوں کے تعاون سے میرپورخاص کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کیا جائے جس میں ضلع انتظامیہ کا تعاون شامل رہا ہے انہوں نے کہا کہ میرپورخاص واحد ضلع ہے جہاں سوئیٹ ہوم کی ذاتی عمارت ہے جس کیلئے چیریٹی انٹرنیشنل کی خدمات قابل تعریف ہے تقریب میں ڈائریکٹر بیت المال سلیم بلوچ، سماجی ورکرز شہزادو ملک، رؤف آرائیں، راحیلہ، رادھا بھیل، رؤف لغاری، میر عبیداللہ تالپور، پادری شمون، کامریڈ نور محمد مری، شیراز چانڈیو، بلاول نثار پتافی، شہریوں اور گاؤں کے لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے۔
![]()