تازہ ترین
Home / اہم خبریں / پولیس رولز 2019 شق نمبر 11 کے تحت آئی جی سندھ کی پوسٹنگ کے لئے وفاق تین نام بھیجے گا۔ حلیم عادل شیخ کی سندھ اسمبلی میں ہنگامی پریس کانفرنس

پولیس رولز 2019 شق نمبر 11 کے تحت آئی جی سندھ کی پوسٹنگ کے لئے وفاق تین نام بھیجے گا۔ حلیم عادل شیخ کی سندھ اسمبلی میں ہنگامی پریس کانفرنس

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کی سندھ اسمبلی میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا سندھ حکومت کے وزراء کہہ رہے ہیں جو تین نام دیئے ہیں ان میں سے ایک آئی جی ہوگا، کیوں ہوگا ایسا؟ آپ نے 2008 سے آج تک 12 آئی جی تبدیل کراچکے ہو۔ مہینوں میں آئی جی کے تبادلے کئے جاتے رہے ہیں۔ آئی جی کی مقرری تین سال سال کے لئے ہوتی ہے۔ پولیس رولز 2019 کے تحت شق نمبر 11 کے تحت آئی جی کی پوسٹنگ کے لئے وفاق تین نام بھیجے گا سعید غنی او مرتضیٰ وہاب سن لیں آپ کا پولیس آرڈر 2019 کیا کہہ رہا ہے یہ سندھ حکومت کا اپنا بنایا ہوا قانون ہے سندھ حکومت کہہ رہی ہے کہ ان کے تین نام بھیجے گئے ہیں ان میں سے آئی جی کو منتخب کیا جائے یہ لوگ خود ہی اپنے بنائے گئے قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اگر آئی جی سندھ کو سیاسی نہیں بناتے تو آج یہ معاملہ یہاں تک نہیں پہنچتا، تینوں صوبوں میں اگر آئی جی تبدیل ہوئے تو ان پر کسی نے پریس کانفرنس نہیں کی سندھ حکومت آئی جی کے تبادلے کے لئے خط کتابت کرتی تو معاملات حل ہوجاتے، سندھ حکومت کے وزراء نے میڈیا میں آکر سندھ پولیس کو بدنام کرنے کی کوشش کی وفاقی حکومت ایک کیبنیٹ ہے جو قانون کے مطابق چل رہی ہے، وزیر اعظم نے آئی جی سندھ کے تبادلے کا معاملہ کیبینٹ کے سامنے رکھا کیبینیٹ نے آئی جی سندھ کو تبدیل کرنے سے انکار کیا ہے، اور بھیجے گئے ناموں پر اعتراضات ہیں۔ اب جو قانونی طریقہ ہے وہ اختیار کیا جائے گا آئی جی سندھ کو تبدیل کرانا سندھ حکومت کا حق ہے لیکن طریقہ کار غلط ہے اس طرح ایک فورس کے سربراہ کو خراب کر کے نکالا نہیں جاتا ہے، آپ لوگ آئی جی کو نہیں ہٹاسکتے ہیں ان کے خلاف کوئی کرینمل ہونے کے چارجز نہیں ہیں جو پولیس آفیسر ان کی بات نہیں مانے اس کو ہٹا دیا جاتا ہے ڈاکٹر رضوان نے رپورٹ دی تو ہٹا دیا ہم سب کپتان کے کھلاڑی اور سپاہی ہیں ہم نے سندھ کےعوام کی جنگ لڑنی ہیں یہ پدی کا شوربہ کہتے ہیں کہ گورنر سے بات نہیں کرینگے ہم نے حق و سچ کی بات کرنی ہے آئی جی کلیم امام کا نام سندھ حکومت نے ہی بھیجا تھا جب تک ایس ایس پی نے وزراء کے خلاف رپورٹ نہیں دی آئی جی ٹھیک تھا منشیات فروشوں اور مافیاز کے نام آئے تو آئی جی برے ہوگئے بڑے ڈاکوؤں کو کوئی بے نقاب کرتا ہےتو ہم آواز ملاتے رہیں گے میری آواز بند کرنے کے لئے مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ڈاکٹررضوان کا قصور یہ ہے کہ وہ راؤ انوار کیس میں انوسٹی گیشن افسر ہے، آئی جی راؤ انوار کو لگا دیں رولا مکا دیں لاڈلہ بچہ آئی جی لگ جائے گا تو مسئلہ ہوجائےگا۔ انہوں نے مزید کہا ہ ڈاکٹر رضوان رپورٹ پر جے آئی ٹی بنائی جائے عمرکوٹ، جیکب آباد، چنیسر گوٹھ پر جج کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنادیں تاکہ حقائق عوام تک لائے جاسکیں۔ ہم عمران خان مشاورت پر یقین رکھتے ہیں گورنر وزیراعلی سے مشاورت کرینگے تو اس میں کیا برائی ہے ہم خوامخواہ مسائل نہیں چاہتے یہ اچھا راستہ تھا کہ گورنر مشاورت کریں وفاقی کابینہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وزیراعلی کو طلب کرلیں اگر گورنرسے بات نہیں کرنی تو یہ نیک شگون نہیں ہے وفاقی کابینہ کا فیصلہ ہے کہ گورنر کے زریعے مشاورت ہوگی مسئلے کو حل کرنے کے لیے بات کی جائے دھمکیاں نہ دی جائیں اس سے باز رہا جائے سندھ میں آئی جی کے معاملے پر اگر پیپلزپارٹی احتجاج کرے تو بنیادی سہولیات سے محروم عوام اپنا رد عمل دے گی ایڈز لگانے والے حکمرانوں اور کتوں سے کٹوانے والوں کا عوام ساتھ نہیں دے گی سندھ حکومت کے دیگر محکمے برباد ہوچکے ہیں کسی وزیر کو نہیں ہٹایا گیا سب سے زیادہ صحت کا محکمہ خراب ہوچکا ہے وزیر صحت کو سب سے پہلے ہٹایا جاتا قانون کے مطابق آئی جی کی مقرری کے لئے وفاق کو تین نام دینے ہوتے ہیں پیپلزپارٹی کو آئی جی وہ چاہیے جو حاضر سائیں کہتا رہے، انہوں نے مزید کہا احساس پروگرام کے تحت اربوں کی اسکیمیں دی جارہی ہیں نیا پاکستان اسکیم کے تحت گھر دیئے جار رہے ہیں جب نچلے طبقے کو سب کچھ ملے گا تو تبدیلی ہوگی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی اراکین سندھ اسمبلی جمال صدیقی، راجا اظہر و یگر بھی موجود تھے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

وفاقی اردو یونیورسٹی میں مبینہ لاقانونیت کے خلاف اساتذہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاج، آصف زرداری سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) وفاقی اردو یونیورسٹی کے عبدالحق کیمپس کی انجمن اساتذہ کے زیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے