Home / اہم خبریں / نظام انصاف کو سہل الحصول بنایا جائے، زیر سماعت مقدمات کو جلد نمٹایا جائے، 98 جیلوں میں 516674 قیدی اپنے مقدمات کے انتظار کی اذیت بھگت رہے ہیں۔ الطاف شکور

نظام انصاف کو سہل الحصول بنایا جائے، زیر سماعت مقدمات کو جلد نمٹایا جائے، 98 جیلوں میں 516674 قیدی اپنے مقدمات کے انتظار کی اذیت بھگت رہے ہیں۔ الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں انصاف کا یہ عالم ہے کہ ملک بھر کی جیلوں میں زیر سماعت قیدیوں کی تعداد سزا یافتہ قیدیوں کی نسبت کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ 98 جیلوں میں زیر سماعت مقدمات میں 516674 قیدی اس وقت جیلوں میں انصاف کے منتظر ہیں۔ تیز تر انصاف کی فراہمی کے لئے موثر عدالتی نظام اور حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ عوام انصاف کو ترس رہے ہیں اور کوئی داد رسی کے لئے تیار نہیں۔ پاکستان کو تبدیلی کی نہیں سماجی انقلاب کی ضرورت ہے۔ نظام انصاف کو سہل الحصول بنایا جائے تا کہ امیر غریب اور عا م و  خا ص کی تفریق کے بغیر شفاف انصاف سب کو مل سکے اس مقصد کے لئے ای عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری بیان میں الطاف شکور نے کہا کہ ملک کی مختلف جیلوں میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے قیدی موجود ہیں جو برسوں سے اپنے کیسز میں انصاف کی آس لئے جیلوں میں سڑ رہے ہیں جبکہ موجودہ جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی موجود ہیں جس کی وجہ سے قیدیوں کی اصلاح و تربیت کا نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ پنجاب میں سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد 17 ہزار جبکہ زیر سماعت  قیدی 27 ہزار ہیں۔ سندھ میں 5 ہزار کے قریب مجرم قیدی اور 12 ہزار سے زائد مقدموں کی سماعت کے منتظر ہیں۔ کے پی کے کی جیلوں میں 3 ہزار مجرم اور 7 ہزار سے زائد انتظار کرنے والے قیدی ہیں۔ جبکہ بلوچستان کی جیلوں میں 798 قیدی مجرم ہیں اور 184 زیر سماعت مقدموں کے قیدی ہیں۔ عام شہری کو اپنے کسی بھی مسئلے پر مقدمہ درج کرانے کے لئے جان جوکھم میں ڈالنا پڑتی ہے اس کے باوجود بھی ان ستم زدہ افراد کی شُنوائی نہیں ہوتی اور اگر مقدمہ درج ہو بھی جائے تو بعد کے مراحل عدالت میں مقدمے کی طویل سماعتوں اور فیصلہ ہونے تک انتہائی دشوار ہوتے ہیں۔ غریب انصاف کے لئے رُل جاتے ہیں اور پیسے والے انصاف خرید لیتے ہیں۔ ایک عام آدمی کی ساری زندگی عدالتوں کے چکر کھاتے گذر جاتی ہے جبکہ ایک امیر اور بااثر آدمی کے لئے چھٹی والے دن بھی عدالت لگ جاتی ہے۔ اسی لئے غریب آدمی کانوں کو ہاتھ لگاکر کورٹ کچہری سے پناہ طلب کرتے ہیں۔ الطاف شکور نے سوال کیا کہ انصاف سے مایوس لوگ آخرکہاں جائیں؟ ظلم کا یہ نظام آخر کب تک چلے گا؟ اس سنگدل نظام کو اب ختم ہوجانا چاہیئے۔ پاکستان کی جیلوں میں ٹرائل مقدمات کے قیدیوں کی ایک بڑی تعداد ہے جن کے مسئلے کا حل ضروری ہے۔ پاسبان کے پلیٹ فارم سے الطاف شکور نے انڈر ٹرائل مقدمات کے مسئلے کا حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام کے اوقات میں علیحدہ سے عدالتیں قائم کی جائیں تا کہ زیر التواء مقدمات جلد نپٹائے جا سکیں اس طرح عدالتوں پر بوجھ کم ہو سکے گا۔ مقدمات کو فوری اور بحسن و خوبی نپٹانے کے لئے ترقی یافتہ ممالک کی طرح ایک لیگل ایڈوائزری کمیٹی یا کونسل بنائی جائے جو ریٹائرڈ ججز، پروفیسرز، امام مساجد اور وکلاء پر مشتمل ہو جن کا کام کسی بھی مقدمے میں ممکنہ صورتحال سے فریقین کو آگاہ کرنا ہوتا کہ وہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ انہیں آپس میں ہی معاملات کو نمٹانا ہے یا کیس کو آگے لے جانا ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

عائشہ ظفر کی تاریخی سنچری، پاکستان ویمنز نے زمبابوے کو ریکارڈ مارجن سے شکست دے دی

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) پاکستان ویمنز ٹیم نے زمبابوے کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے