ہزارہ (رپورٹ: عتیق سلیمانی) سپیکرخیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ پولیس جیسے اہم محکمہ کے رویوں میں تبدیلی میرٹ، قانون کی بالادستی اور اصلاحات ماضی میں نہیں دیکھی گئیں یہ ہی تبدیلی ہے جس کا وعدہ عوام سے عمران خان نے کیا تھا سابقہ حکومتوں میں اداروں کو اپنی باندھی بنا کر رکھا گیا آج پولیس خود مختیار ہے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تمام اختیارات آئی جی پی کو منتقل کیئے جو پہلے وزیر اعلی کے پاس تھے۔ پولیس کو خود مختار بنانے سے بہتری آئی اب ہم سپاہی تک نہیں بھرتی کراسکتے اب بھرتی این ٹی ایس اور میرٹ کے ذریعے ہو رہیں۔ ہزارہ پولیس زبردست ٹیم کی صورت میں کام کر رہی ہے ایبٹ آباد اور شملہ انٹر چینج کو آئندہ اے ڈی پی میں ڈالیں گے پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے حکومت اور پاک فوج ایک پیج پرہیں ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے اتوار کے روز جلال بابا آڈیٹوریم میں محکمہ پولیس کے زیر اہتمام روڈ سیفٹی کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک قلندر خان لودھی، رکن قومی اسمبلی علی خان جدون، رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ فرید صلاح الدین، کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر السلام، ڈی آئی جی ہزارہ مظہر الحق کاکا خیل، ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد عامر آفاق، ڈی پی او ایبٹ آباد جاوید اقبال وزیر، ڈی پی او بٹگرام قیصر عالم، سابق ایم پی اے خورشید اعظم، ایس پی ٹریفک وارڈن ہزارہ طارق خان، فرانزک لیب انچارج ایوب میڈیکل کمپلیکس ڈاکٹرافتخار احمد کے علاوہ ہزارہ بھر کے ایس پیز،ڈی ایس پیز موجود تھے۔ سیمینار میں ڈسٹر کٹ پولیس آفیسر جاوید اقبال نے ٹریفک پولیس ریفارمز ون ویلنگ، نوہیلمٹ نو پٹرول، سیٹ بیلٹ، سیاحوں کی سہولیات، ٹریفک سنگنلز، روڈ سیفٹی اور دیگر لائی گئی پولیس اصلاحات کے حوالے سے بتایا گیا۔ سپیکر خیبر پختو نخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے کسی بھی حکومت نے محکموں میں اتنی بڑی اصلاحات نہیں لائی اصلاحات لانے پر حکومت کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ہماری حکومت نے مزاحمت کی پروا نہ کرتے ہوئے اور عمران خان کے ویژن اور عوام سے کئے گئے تبدیلی کے وعدے پر قائم رہتے ہوئے ہر ادارے میں اصلاحات لاۓ، ہسپتال ڈاکٹرز کے لئے نہیں مریضوں کے لئے بنے، اسکولز طلباء کے ہیں اساتذہ کے لئے نہیں جس نے کام نہیں کرنا گھر چلا جائے انہوں نے کہا گزشتہ پانچ سالوں میں خلاف ورزیوں پر 7 ہزار کے قریب ملازمین کو نوکریو ں سے فارغ کیا۔ آج پولیس میں اعلی تعلیم یافتہ اور قابل لوگ میرٹ پر بھرتی ہو رہے ہیں جس کی بدولت پولیس کے محکمہ میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے پولیس نے کم عمر ڈرائیور کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جس پر بچوں کی قیمتی جانیں بچ رہی ہیں ماضی میں پولیس ریونیو بڑھانے کے لئے جرمانوں پر خوش رہتی تھی لیکن اب کونسلنگ کے ذریعے معاشرے میں بہتری لانے کی کوشش کی گئی نو ہیلمٹ نو پٹرول، موبائل ڈرائیونگ یونٹ، کونسلنگ یونٹ، بہت اہم ریفارمز ہیں پہلے اس پر کام نہیں ہوا۔ آر پی او ہزارہ کی اصلاحات کو صوبہ بھر میں نافذ کیا گیا جو ہزارہ کے لئے ایک اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کوئی کھینچا تانی نہیں ہے ہم ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی قربانیاں لازوال ہیں۔ آج ایک مخصوص انداز میں ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے حکومت ایسے عزائم ناکام بنائے گی۔ انہوں نے پاک فوج کے حق میں نکالی گئی ریلی کی بھی قیادت کی جو جلال بابا آڈیٹوریم سے ختم نبوت چوک تک نکالی گئی۔ قبل ازیں مشتاق احمد غنی کو پولیس کے چاک چوبند دستہ نے سلامی دی۔ انہوں نے ہزارہ پولیس کی جانب سے لگائے گئے خصوصی سٹالز پولیس ووکیشنل ٹریننگ اسکول، موبائل لائسنس یونٹ، موبائل پولیس کینٹین، پولیس انوسٹی گیشن سیل، خصوصی اسلحہ سمیت دیگر کا معائنہ کیا اور پولیس کی جانب سے کئے گئے اصلاحاتی پہلو کی ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی اور اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسران، اہلکاروں اور پولیس کی اصلاحات میں اہم کردار ادا کرنے والے اسٹیک ہولڈرز میں تعریفی اسناد پیش کی گئیں۔