چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) سابق صدر پاکستان جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو جب سے سزائے موت سنائی گئی ہے اسی دن سے چترال میں ان کے حق میں کسی نہ کسی علاقے میں جلسہ جلوس ضرور ہوتا ہے۔ مگر ان سب میں سب سے بڑا جلسہ تاریحی شہر دروش میں ہوا۔ دروش چوک میں سابق ناظم یونین کونسل شیشی کوہ اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار سہراب خان کی صدارت میں جلسہ منعقد ہوا۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پرویز مشرف محسن چترال ہے کیونکہ چترالی قوم حقیقی معنوں میں اس وقت آزادی ملی جب لواری سرنگ تعمیر ہوئی اور اس کی منظوری صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قاتل لواری ٹاپ پر کئی چترالی لوگ اس وقت اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جو اس برف پوش پہاڑ کو پیدل عبور کرنے کی ناکام کوشش کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اس زمانے میں تازہ سبزی، پھل اور آشیائے خورد و نوش کی چترال میں نہایت قلعت ہوتی تھی اور جب سے لواری سرنگ بنی ہے اب روزانہ تازہ سبزیاں، پھل وغیرہ مناسب نرخ پر چترال آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے نہ صرف لواری ٹنل بنوائی بلکہ چترال میں دیگر کئی ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام شروع کروایا۔ اس موقع پر انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے حق میں نعرے بھی لگائے اور عدلیہ کا فیصلہ نامنظور نامنظور کے نعرے بھی لگائے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی عدالت کے جج نے کس قانون کے تحت یہ لکھا ہے کہ پرویز مشرف کی لاش کو تین دن تک ڈی چوک میں لٹکا دو۔ چترال لیویز سے ریٹائرڈ ایک صوبیدار نور اعظم نے پیشکش کی کہ اگر پھانسی پر لٹکانا ہو تو میں پرویز مشرف کی جگہ تیار ہوں مجھے لٹکا دیں مگر ہمارے محسن کو نہ لٹکائیں۔ مقررین نے کہا کہ لوری ٹنل سرنگ سے پہلے چترالی لوگ خود کو پاکستانی بھی نہیں سمجھتے تھے کیونکہ موسم سرما میں جب لواری ٹاپ پر شدید برف باری ہوتی تو چترال کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی اور فضائی رابطہ منقطع ہوتا اور یوں وہ پاکستان سے کٹ جاتے اور ایک علیحدہ دنیا میں رہنے کے مترادف ہوتے۔ مقررین نے کہا کہ چترال کے لوگ مجبوری کے تحت افغانستان کے راستے سے پاکستان یعنی پشاور پہنچ جاتے جس میں ان کو کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا اور کئی چترالیوں کو طالبان نے قتل بھی کیا۔ جبکہ خراب موسم کی وجہ سے جہاز بھی نہیں آتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چترال ایک آزاد ریاست تھی جس کے مہتر یعنی حکمران نے رضاکارانہ طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا مگر پاکستان کے کسی بھی حکمران نے ہمیں کچھ نہیں دیا تھا تاہم ہم ذوالفقار علی بھٹو کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے لواری سرنگ پر کام کا آغاز کیا تھا جو بعد میں بند کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے بیرون ملک میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ اگر تہذیب سیکھنا ہو تو چترالیوں سے سیکھئے اور یہ ان کی چترال کے عوام کے ساتھ والہانہ محبت کی نشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم احسان فراموش قوم نہیں ہیں بلکہ فرض شناس ہیں اور جو لوگ ہمارے ساتھ احسان کرتے ہم انہیں کبھی نہیں بھولتے۔ جلسہ سے حاجی محمد شفاء، سرتاج احمد خان، حاجی گل نواز خان، ظاہر خان، قاضی اسرار احمد، سابق ناظم عبد الباری، حاجی سلطان، عبداللہ استاد اور سہراب خان نے اظہار خیال کیا۔ بعد میں دعائیہ کلمات کے ساتھ اس جلسہ کو پر امن طور پر منتشر کیا گیا۔ جلسہ میں کثیر تعداد میں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔