اراضی کی منظوری کیلئے پالیسی بنائی جارہی ہے، فریٹ ریٹ کی ڈالر کے بجائے روپے میں ادائیگی کیلئے قواعد بنا رہے ہیں، وفاقی وزیر بحری امور کا کاٹی سے خطاب
صنعتوں کیلئے مختص اراضی کے نرخوں پر قابو نہ پایا گیا تو ملک میں نئی صنعتیں نہیں لگ سکیں گی۔ صدر کاٹی شیخ عمر ریحان
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی نے کہا کہ ایل این جی کے دو نئے ٹرمنل کیلئے آنے والی کمپنیاں صرف زمین کے ایک کروڑ ڈالر ادا کریں گی۔ کے پی ٹی کی اراضی کی منظوری کے بارے میں پالیسی بنائی جارہی ہے، ابھی تک ایک انچ زمین کی الاٹمنٹ نہیں کی گئی۔ شپنگ کمپنی کو ریگولیٹ کرکے فریٹ ریٹ کی ڈالر کے بجائے روپے میں ادائیگیوں کا پابند کیا جائے گا، شپنگ کو فروغ دینے کے لیے 2030 تک بحری جہازوں کی خریداری کو ٹیکس اور ڈیوٹیزی وغیرہ سے مستثنی کردیا جائے گا۔ انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا۔ کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان، چیئرمین و سی ای او کائٹ زبیر چھایا، کاٹی کی قائمہ کمیٹی برائے پورٹ اینڈ شپنگ فراز الرحمن، سینئیر نائب صدر اکرام راجپوت، نائب صدر سید واجد حسین اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ وفاقی وزیر بحری امور سید علی زیدی کا کہنا تھا کہ کراچی پورٹ سے خام تیل ریفائنری تک جاتا ہے اور اس کے پورے ملک میں فراہمی کے لیے اسٹوریج میں واپس پہنچایا جاتا ہے، اس کے باعث شہر کی ٹریفک پر بھی بوجھ پڑتا ہے، اس کے لیے وزارت پیٹرولیم کو اسٹوریج ریفائنری کے قریب ہی بنانے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک کی روانی کے لیے ہیوی ٹریفک بوجھ لیاری ایکسپریس وے پر منتقل کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے، سڑک میں ہونے والی رد وبدل کے اخراجات اٹھانے کیلئے تیار ہیں تاہم ٹول میں کے پی ٹی کا حصہ چاہتے ہی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ شپنگ پالیسی میں بہت کچھ اعلان ہونے جارہا ہے اس سے پاکستان میں شپنگ انڈسٹری کی ترقی میں مدد ملے گی، شپنگ پالیسی میں تجویز ہے کہ 2030 تک پاکستان میں بحری جہاز کی خریداری اور رجسٹریشن پر سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی غیرہ لاگو نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی ٹی زمینوں کی الاٹمنٹ میں خورد برد سے متعلق ایک سابق وزیر سے متعلق تفصیلات نیب کو فراہم کی جاچکی ہیں، اراضی کی منظوری کے لیے باقاعدہ پالیسی بنا رہے ہیں جس میں پورٹ قاسم کیلئے ساڑھے چار کروڑ روپے فی ایکٹر کے نرخ کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار پالیسی طے ہونے سے رشوت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پی این ایس سی کی دو عمارتوں راحیلی ہاؤس اورمحمدی ہاؤس کی بحالی کا کام شروع ہوچکا ہے۔ اس موقعے پر کاٹی کے صدر شخ عمر ریحان نے کہا کہ کے پی ٹی سے متعلق بزنس کمیونٹی کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بن قاسم انڈسٹریل ایریا میں رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیوں کی وجہ سے صنعتوں کے لیے مختص زمین کی قیمتیں بہت بڑھ چکی ہیں جسکی وجہ سے ملک میں درکار انڈسٹرلائزیشن کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے پورٹ قاسم سے ملحقہ صنعتی علاقے میں گیس اور بجلی کے کنکشن کی فراہمی میں سہولت فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ میں کے تین آئل ٹرمینلز میں سے صرف ایک فعال ہے باقی دو کو کارگو کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ہیوی ٹریفک کا دباؤ کرنے کے لیے کے پی ٹی سے ناردن بائی پاس تک ایک براہ راست سڑک تعمیر کی جائے۔ زبیر چھایا نے کہا کہ کراچی کے عوام نے تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کیا لیکن کراچی کے عوام اور صنعتوں کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیڑھ سال میں کوئی اہم اقدام نہیں ہوا، وزیراعظم کراچی پر ذاتی توجہ دیں۔ کاٹی کی قائمہ کمیٹی برائے پورٹ اینڈ شپنگ کے سربراہ فراز الرحمن کا کہنا تھا کہ شپنگ کمپنیوں کے نرخوں اور ایکسچینج ریٹ سے متعلق عدالتی فیصلوں کے باوجود شکایات کا ازالہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ عام تعطیلات کی صورت میں صنعتوں کو ڈیمریج برداشت کرنا پڑتا ہے اس کے ازالے کے لیے بھی پالیسی بنائی جائے۔ بعد ازاں وفاقی وزیر سید علی زیدی کا کہنا تھا کہ ملک کی بقا کے لیے کچھ سخت فیصلے کرنا پڑے ہمیں اندازہ ہے کہ مہنگی توانائی اور بلند شرح سود پر انڈسٹری لگانا مشکل ہے تاہم جلد حالات میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ فیری سروس چلانے کے لئے وزارت دفاع سے این او سی ضروری ہوتی ہے دبئی، عمان، جدہ اور کے لیے یہ سروس چلانے کے لیے ایک بار پھر رابطہ کیا ہے امید ہے اس بار منظوری ہوجائے گی جس کے بعد عمرہ و حج اور زیارات کے ساتھ کارگو کے لیے بھی یہ سروس دستیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں نجی کمپنیوں کو مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2006 کے بعد کے پی ٹی آڈٹ نہیں ہوا 31 دسمبر تک 2012 اور آئندہ برس فروری تک 2016 تک کا آڈٹ مکمل ہوجائے گا اس میں لینڈ آڈٹ بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کہ کراچی میں روزانہ 18 ہزار ٹرک آتے ہیں، جبکہ کاٹی اپنی مجموعی 150 ملین ٹن کے بجائے صرف 46 ملین ٹن کارگو ہنڈلینگ کرتا ہے۔ اس لیے ٹریفک کے مسائل حل کیے بغیر اس گنجائش کو مزید نہیں بڑھایا جاسکتا۔ تقریب میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما محمود مولوی، کاٹی کے سابق صدور اور بزنس کمیونٹی کی ممتاز شخصیات نے بھی شرکت کی۔
![]()