کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی و چئیرپرسن پاکستان اسٹڈی سرکل راحیلہ ٹوانہ نے خصوصی عدالت کی جانب سے سابق آرمی چیف و سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کے خلاف سزائے موت کے فیصلے پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تھی قانون یا آئین شکنی نہیں کی تھی یہ مقدمات ان کے سیاسی مخالفین نے بھارتی ایجنڈے پر اینٹی مشرف تحریک چلا کر اور ڈرامے رچا کر درج کروائے تھے۔ یہ کیس جھوٹ پر مبنی تھے پرویز مشرف کی پاکستان کے لئے خدمات تاریخ ساز ہیں۔ اس کیس کو پوری طرح ٹرائل بھی نہیں کیا گیا نہ کیس کے قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں۔ لہذا پرویز مشرف پر غداری کا کیس بنتا ہی نہیں ہے کیونکہ وہ وفادار پاکستان ہیں وہ سپوت پاکستان ہیں۔ اینٹی پرویز مشرف کیس بنا کر سب نے اپنے اپنے گناہوں کو ان کے سر پر ڈالا ہے مجھے عدالتوں سے اس طرح کے فیصلے کی امید نہیں تھی کہ وہ وہ انصاف کے بجائے ناانصافی کریں گے عدالت کے اس فیصلے پر عوام میں بھی شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے یہ اتنا تکلیف دہ معاملہ ہے کہ اس نے بھٹو کی یاد تازہ کردی۔ آج پاک فوج اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پرویز مشرف کی حمایت میں بیان پر ڈی جی آئی ایس پے آر میجر جنرل آصف غفور اور پوری پاک فوج کو سلام پیش کرتی ہوں کہ پاک فوج اپنے سابق سپہ سالار کی قربانیوں کو نہیں بھولی۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اگر حکومت کو سنبھال نہیں سکتے تو اپنی نااہل ٹیم کے ساتھ حکومت سے علیحدہ ہوجائیں۔ کیونکہ اتنے بڑے بڑے معاملات جو پاکستان کے وقار کو مجروع کررہے ہیں عدلیہ کا یہ فیصلہ فوج پر اٹیک نہیں بلکہ پاکستان کی سلامتی اور پاکستان کے وقار پر حملہ ہے۔ عمران خان اور ان وزیر مشیر کوئی کام نہیں کررہے بلکہ صرف فنڈ کاروبار کی بات کرتے ہیں اور سرکاری دورے کررہے ہیں۔ پاکستان اسٹڈی سرکل کی جانب سے پرویز مشرف کے لئے ہم باقاعدہ تحریک کا آغاز بھی کررہے ہیں ہمارا نعرہ ہے کہ یا اللہ یا رسول جنرل (ر)پرویز مشرف بے قصور۔
![]()