کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی ایڈووکیٹ نے کراچی پریس کلب میں پریس کنفرنس کرتے ہوۓ کہا کہ غیرسرکاری رجسٹرڈ ادارہ ہے، ہماری تنظیم کا مقصد انسانی حقوق، بنیادی حقوق، شہری حقوق اور قانونی مدد کے لئے جدوجہد کرنا ہے، جس کے لئے ہماری تنظیم کے زیر انتظام لیگل ایڈ ہیلپ لائین موجود ہے، جس کی سربراہی میڈم راحت بیگ ایڈووکیٹ کررہی ہیں، ہماری تنظیم معصوم و بے گناہ شہریوں کوقانونی مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم عوامی مسائل کی نشاندہی کے لئے میڈیا کے ذریعے اپنی آواز بلند کرتے رہتے ہیں اور اس باوجود حکومت اگر کوئی نوٹس نہ لے تو اعلیٰ عدالتوں کے ذریعے مسائل کے حل کے لئے آئینی درخواست بھی دائر کرتے ہیں، اسی سلسلے میں ہم آج یہ پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کراچی ایک میٹروپولیٹن شہر ہے، جس کی وجہ سے بے شمار مسائل کا شکار ہیں، جس میں ایک اہم مسئلہ ٹریفک کا بھی ہے، اس سلسلے میں ہم آپ کے ذریعے وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کی توجہ دلوانا چاہتے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی معیشت کا دارومدار آمد و رفت کے بہترین ذرائع پر منحصر ہوتا ہے، جس کے لئے پاکستان کو جغرافیائی لحاظ سے قدرت نے اہم ترین مقام اور سہولیات مہیا کی ہیں، اس سلسلے میں کراچی کی بندرگاہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے، اس ضمن میں حکومت پاکستان نے وفاقی وزارت شپنگ اینڈ پورٹس کے تحت (ساؤتھ ایشیاء پورٹ ٹرمینل) کا منصوبہ بنایا، جس کی منظوری اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان سے لی گئی اور منصوبے کی تکمیل کے لئے وفاقی وزارت شپنگ اینڈ پورٹس کے ماتحت ادارے (کراچی پورٹ ٹرسٹ) کو ذمہ داری سونپی گئی۔ اس منصوبے کے تحت ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی ہچیسن پورٹس اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے درمیان (پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ) کے تحت معاہدہ کیا گیا، اس منصوبے کی پلاننگ اور منظوری کے مطابق(ساؤتھ ایشیاء پورٹ ٹرمینل) میں ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی آٹھ عدد کرینز، 26عدد برٹائر جینٹری کرینیں، کنٹرول ٹاور کے ساتھ بہتر رابطے، سی سی ٹی وی اور ٹرنک ریڈیو سسٹمز شامل ہیں، یہ ہچیسن پورٹس کے جدید ترین آپریٹنگ سسٹم این جی ای (NGE) سے آرستہ ہیں، اس منصوبے کی تکمیل کے بعد بھاری تعداد میں کنٹینرز کی ملک بھر ہیوی ٹریفک میں اضافے کے سبب ٹریفک مسائل سے نمٹنے کے لئے (Cable Stay Bridge) پر مشتمل منصوبے کی بھی منظوری دی گئی تھی، اس ضمن میں کراچی پورٹ ٹرسٹ نے (کراچی پورٹ ایمپروومنٹ پروجیکٹ) کے نام پر ورلڈ بنک سے بھاری قرضہ بھی وصول کیا تھا، مذکورہ فنڈز سے (Cable Stay Bridge) بھی تعمیر کیا جانا تھا۔ (کراچی پورٹ ایمپروومنٹ پروجیکٹ) کے تحت (پاکستان ڈیپ واٹر کنٹینر ٹرمینل سے M-9 نادرن بائی پاس) کو ملانا تھا، جس سے ساؤتھ ایشیاء ٹرمینل سے نکلنے والے ہیوی ٹریفک کو براہ راست نادرن بائی پاس اور لیاری ایکسپریس وے سے گزارنے کا بدوبست کیا جانا تھا، تاکہ اندرون شہر کی سڑکوں اور علاقوں میں شہریوں کو کوئی پریشانی نہ ہو اور ماحولیات پر بھی کوئی منفی اثرات مرتب نہ ہوں، لیکن سابقہ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے منصوبے کی تکمیل سے قبل ہی اس کا افتتاح کردیا اور (Cable Stay Bridge) کی تعمیر نہ ہوسکی، اس کے بعد سے اب تک ایک اندازے کے مطابق بندرگاہ پر کئی ہزار کنٹینرز (ٹی ای یوز) کے حامل جہاز اس بندرگاہ پر لنگر انداز ہورہے ہیں۔ ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ کی تعمیر کا مقصد 14 سے 18ہزار کنٹینرز (ٹی ای یوز) کے حامل بحری جہازوں کی آمدورفت ممکن بنانا تھا، جبکہ نیوی گیشن چینل اور متعلقہ سہولتوں سمیت پورٹ بیسن اور بندرگاہ کو سڑکوں تک جوڑنے کی ذمے داری کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ہے، لیکن کراچی پورٹ ٹرسٹ کے متعلقہ حکام، افسران اس میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ موجودہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے سابقہ دور حکومت میں (جنوری، 2018ء) کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ (پی پی پی) پالیسی بورڈ کے 24 ویں اجلاس کی صدرات کی، اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ شہر کی آبادی موجودہ رپورٹ کے مطابق 16 ملین تک پہنچ گئی ہے، صنعتی علاقوں، بندرگاہ اور بڑی آبادی کے باعث یہاں پر بڑے ایکسپریس وے اور سڑکوں کی ضرورت ہے، آبادی، گاڑیوں اور تجارتی سرگرمیوں کی تعداد میں اضافے کے باعث شہر کی اہم سڑکوں پر ٹریفک جام اور دیگر مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور شاہراہوں پر لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے اور ٹریفک جام ہونے کے باعث فیول اور وقت کا ضیاع ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کی ماحولیاتی آلودگی پیدا ہورہی ہے اور حادثات بھی ہورہے ہیں۔ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک جام کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے، دوسری جانب ٹریفک حادثات میں شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، موجودہ حالات کی وجہ سے اب تک ٹریفک حادثات میں سینکٹروں شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں اور سینکٹروں معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال سے خصوصا کلفٹن، ڈیفنس، شیریں جناح کالونی، شیرشاہ، ناظم آباد، لیاقت آباد، پنجاب کالونی، لانڈھی، کورنگی، قائد آباد کے مکین انتہائی پریشانی کا شکار ہیں، دوسری جانب شہر کو ہیوی ٹریفک کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، ہیوی ٹریفک کی وجہ سے قرب و جوار کے علاقوں کے روڈ تباہ حالی کا شکار ہوگئے ہیں۔ کراچی پورٹ پر تعمیر کی جانے والی گہرے پانی کی پہلی بندرگاہ ’’پاکستان ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ‘‘ تک پہنچنے والے بحری راستے کی مطلوبہ گہرائی حاصل کیے بغیر ہی آزمائشی آپریشنز کے دوران ہی افتتاح کیا گیا تھا اور حکومت نے (ساؤتھ ایشیاء پورٹ ٹرمینل) کا افتتاح کرکے عدالتی حکم پر عملدرآمد سے بھی روگردانی کی ہے اور ہیوی ٹریفک کی وجہ سے قرب و جوار کے علاقوں کے روڈ تباہ حالی کا شکار ہوگئے ہیں، یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2016 میں شہر میں حادثات کی روک تھام اور ہیوی ٹریفک کی شہری حدود میں آمد و رفت پر پابندی عائد کردی تھی، جبکہ سپریم کورٹ نے بھی تمام آئل ٹینکرز کو شیریں جناح کالونی سے ذوالفقار آبادمنتقل کرنے کا حکم جاری کیا تھا، اس کے باوجود (کے پی ٹی ) نے ساؤتھ ایشیاء پورٹ ٹرمینل کھول کر شہر میں ہیوی ٹریفک میں اضافہ کیا اور عدالتی فیصلے کی حکم عدولی کی ہے۔ ہم اپنی تنظیم کے پلیٹ فارم سے عزت مآب صدر مملکت اسلامیہ جمہوریہ پاکستان، عزت مآب وزیر اعظم پاکستان، عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان، عزت مآب وفاقی وزیر شپنگ اینڈ پورٹس اور تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ کراچی ہاربر کراسنگ کی تعمیر مکمل ہونے تک کراچی پورٹ ٹرسٹ پر (ساؤتھ ایشیاء پورٹ ٹرمینل) کے استعمال پر فوری پابندی عائد کی جائے۔
![]()