میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) عمرکوٹ ضلع کے شادی پلی پولیس اسٹیشن کے لاک اپ میں مبینہ قتل ہونے والے نوجوان کانبھو شر کے لاش کی 50 گھنٹوں تدفین نہ ہوسکی ورثاء کا لاش رکھکر پچاس گھنٹوں سے ڈی آئی جی آفس میرپورخاص کے سامنے احتجاج جاری رہا۔ عمرکوٹ ضلع کی شادی پلی پولیس اسٹیشن سے ملنے والی لاش بروقت تدفین نہ ہونے کی وجہ سے تعفن پھیلا رہی ہے۔ ورثاء کا شادی پلی پولیس پر مقدمہ درج نہ ہونے پر لاش ڈی آئی جی آفس کے سامنے رکھکر سخت سردی میں دھرنا جاری رکھا۔ متاثرین ورثاء کا شادی پلی پولیس کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے ڈی آئی جی آفس کے سامنے دھرنے میں پی ٹی آئی رہنماؤں آفتاب قریشی، سیاسی، سماجی شخصیات رہنماؤں واجد لغاری، سرون کمار بھیل اور دیگر متاثرین کے ساتھ احتجاج میں شریک تھے۔ مقتول کی لاش مسلسل پچاس گھنٹوں سے تدفین نہ ہونے کے سبب بدبو کر گئی۔ ڈی آئی جی میرپورخاص ثاقب اسماعیل میمن کی ہدایات پر شادی پلی پولیس اسٹیشن میں قتل ہونے والے کانبھو شر کے بھائی مولا بخش شر کی مدعیت میں ایس ایچ او شادی پلی پولیس اسٹیشن انسپیکٹر عزیز سھیڑو، اے ایس آئی ہوت کپری، پولیس اہلکار عبدالستار کنبھار اور ماھدیو میگھواڑ کے خلاف قتل، اغواء اور انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت زیر دفعہ 302، 365، پی پی سی 6/7 34 اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
![]()