ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) سوشل میڈیا ویب سائٹس پر جنسی تسکین کا سامان کھلے عام فروخت ہونے لگا، آن لائن جنسی ادویات کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے برابر، جنسی ادویات کا استعمال لوگوں میں موذی امراض اور موت بانٹنے لگا، دراز، فیس بک، شاپنگ بیگ لائیو ویل، علی بابا سمیت مختلف سائٹس پر غیر قانونی گولیاں، سپرے، کریمیں اور جنسی کتابیں کریڈٹ کارڈ اور کیش آن ڈلیوری پر دی جارہی ہیں، تمام ادویات ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے بغیر رجسٹریشن اور کمپنی نام کے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سمیت ملک بھر میں غیر ملکی غیر مستند جنسی ادویات کا غیر قانونی کارروبار بڑھتا جارہا ہے۔ مختلف ناموں سے کام کرنے والی کمپنیاں فحش اشتہارات سوشل میڈیا ویب سائٹس کو رقم ادا کر کے معاشرے میں بے راہ روی و بے حیائی کا سبب بن رہی ہیں جہاں ان کا مقصد لوگوں کو اپنی مخصوص ویب سائٹس کی طرف مبذول کرنا ہوتا ہیں جہاں آن لائن چیزوں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔ قانون کی عملداری نہ ہونے اور محکمہ صحت میں موجود کرپٹ مافیا کی وجہ سے ڈیرہ سمیت ملک بھر میں جنسی تسکین کی ادویات کی بھر مار ہوچکی ہے۔ جنسی صحت سے متعلق ادویات بغیر کسی قانون ضابطے کے فروخت کی جارہی ہیں۔ کسی بھی ادارے کے چیک اینڈ بیلنس کے بغیر ان ادویات کے استعمال سے کتنے انسان موذی بیماریوں کا شکار بننے کے ساتھ ساتھ بہت سے جان کی بازیاں ہارچکے ہیں اور اس طرح کی دیگر صحت دشمن ادویات غیر قانونی طور پر ملک بھر میں خاص طور پر آن لائن سائٹس پر مکروہ کاروبار کرنے والے عناصر ملوث ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیرہ سمیت ملک بھر میں سب سے ذیادہ پکڑی جانے والی غیر قانونی ادویات میں سے جنسی ادویات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، شہریوں نے ایف آئی اے سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ممنوعہ جنسی ادویات کی تشہیر کرنے سمیت فروخت کرنے والوں کو بلاک کرکے قانونی طور پر سزا ئیں دی جائیں تاکہ ان پڑھ سادہ لوح افراد ناقص و غیر معیاری ممنوعہ ادویات کے استعمال سے بچ سکیں۔
![]()