کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ بچوں کا عالمی دن منائے جانے کا مقصد بچوں کی تعلیم و تربیت، صحت اور تفریح کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ بچے معاشرے کا مفید اور کارآمد حصہ بن سکیں۔ اس دن بچوں کی بہتری کے حوالے سے غور و فکر اور مستقبل کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے، ان پر عمل درآمد بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ وطن عزیزمیں بات محض لفاظی، زبانی دعوؤں اور فوٹو سیشن سے آگے نہیں بڑھتی۔ بچوں سے پیار و محبت اور ان کے روشن مستقبل کے حوالے سے صرف تقاریر ہوتی ہیں جبکہ عملی سطح پر کوئی ٹھوس کام نہیں کیا جاتا۔ صحت، تعلیم، تفریح کی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن گذشتہ اور موجودہ دونوں حکومتیں اس ذمہ داری کو پوری کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ ناانصافی، عدم مساوات اور غربت کی وجہ سے پاکستانی بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ بچوں کے عالمی دن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اقبال ہاشمی نے کہا کہ یہ وہی بچے ہیں جنہیں کہیں مستقبل کا معمار کہا گیا ہے، کہیں شاہین اور کہیں وطن کا پاسبان لیکن انہی بچوں کے لئے طبقاتی نظام تعلیم بنا دیا گیا ہے، جو تمام مسائل کی جڑ ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے اسٹریٹ چلڈرنز میں ہونے والا اضافہ حکومت کی نااہلی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ قحط سالی، غذائی قلت، ڈینگی، ڈائریا، ملیریا، سگ گزیدگی اور نجانے کون کون سی بیماریوں سے ہزاروں کی تعداد میں مرنے والے بچے اقتدار میں موجود بے حس حکمرانوں کی ناقص کارکردگی پر ایک داغ ہیں۔ ہم سب نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو ہوٹلوں، دکانوں، ورکشاپس میں کام کرنے والے اور کچرا چنتے ہوئے بچے کل ذمہ دار شہری کیسے بنیں گے؟ آئے دن بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لئے آج تک کوئی نتیجہ خیز قدم نہیں اٹھایا گیا۔ کیا اس کے پیچھے باقاعدہ کوئی مافیا ہے جس کی پشت پناہی اقتدار میں بیٹھے لوگ کر رہے ہیں؟ مجرم آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں، ایک آدھ مجرم کو اگر سزا دی بھی جاتی ہے تو اس سے باقی مجرم عبرت کیوں نہیں پکڑتے؟ معصوم بچے ان کی ہوس کا نشانہ بن کرموت کی نیند سو جاتے ہیں۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں اقبال ہاشمی نے سوال کیا کہ کم عمری سے کام کرنے اور کوڑا کرکٹ اٹھانے والے بچوں کی فلاح و بہبود اور پڑھائی کی ذمہ داری ریاست کی نہیں ہے؟ وزراء اور امراء ملک کے تمام بچوں کو اپنا بچہ سمجھ کر یکساں سلوک کیوں نہیں کرتے؟ کیوں عام آدمی کے بچے کو صحت و تعلیم اور زندگی گذارنے کے وہ مواقع حاصل نہیں جو ان کے بچوں کو حاصل ہیں؟ بچوں کی فلاح و بہبود اور روشن مستقبل کے لئے تجاویز دیتے ہوئے اقبال ہاشمی نے مزید کہا کہ جب تک ہم قول و فعل کے تضاد سے باہرنکل کر عملی اقدامات نہیں کریں گے ہم اپنے مستقبل کے معماروں کو وہ سب نہیں دے سکیں گے جس کے وہ حقدار ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے حکومت ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ پر بھرپور توجہ دے۔ بچوں کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے واقعات اور جرائم کی تشہیر کے بجائے ان کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں اور مجرموں کو فوری اور کڑی سے کڑی سزا دے کر نشان عبرت بنایا جائے۔ بچوں کے حقوق سے متعلق نئی قانون سازی کی جائے اور صحت و تعلیم کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ ہمارے کل کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم آج اپنے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت پر کیا خرچ کر رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان قوموں نے ترقی کی جنہوں نے بچوں کے حقوق کے لئے کوششیں کیں اور عملی سطح پر بھی کام کر کے دکھایا۔
![]()