کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر نائب صدر رفیق احمد خاصخیلی اور ضلعی صدور ارشد آرائیں، نور محمد چانڈیو اور سلطان خاصخیلی نے کہا ہے کہ سندھ میں سانپ اور کتے کے کاٹنے پر ویکسین کے تمام منصوبوں کا خاموشی کے ساتھ خاتمہ، پیپلز پارٹی کی وڈیرہ شاہی حکومت کا سندھ کے عوام کے ساتھ ایک نیا دھوکہ اور گھناؤنا ظلم ہے۔ ملک میں ریسرچ اور ایجادات کے فروغ کے لئے کوئی سنجیدہ نہیں۔ سندھ میں 95 فیصد کرپشن رنگ لا رہی ہے۔ سندھ میں کتے اور سانپ کے کاٹنے سے اموات میں اضافہ کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے۔ عوام اٹھ کھڑے ہوں اور خدانخواستہ آئندہ کتے اور سانپ کے کاٹنے سے جو بھی اموات ہوں اس کے قتل کی ایف آئی آر سابق صدر آصف زرداری، وزیر اعلی سندھ اور بلاول بھٹو کے خلاف درج کی جائیں۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں رفیق احمد خاصخیلی اور پاسبان کے ضلعی صدور نے مشترکہ بیان میں کہا کہ سکرنڈ میں 2007 میں ابتدائی طور پر 60 کروڑ سے شروع کیا جانے والے منصوبے میں 35 افسران و اہلکار 12 سال تک تنخواہ اور مراعات لیتے رہے جس کے بعد اب اینٹی اسنیک و اینٹی ریبیز منصوبے کو عملا ختم کر دیا گیا ہے۔ 2010 میں کراچی میں ڈاؤ یونیورسٹی کے تحت ایسے ہی ایک منصوبے کا اعلان کیا گیا۔ سیرو بائیولوجی لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا گیا۔ قیمتی گھوڑے، بندر اور سانپ خرید کر ماہرین حیوانیات کی نگرانی میں تجربات کئے گئے جو کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور اینٹی اسنیک ویکسین تیار کرلی گئی۔ ملک کو بیرون ملک سے یہ ویکسین منگوانے سے نجات مل گئی۔ سابق وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید کی مدت ملازمت کی تکمیل کے بعد یہ منصوبہ بھی ایک سازش کے تحت لاوارث کر کے غیر فعال کر دیا گیا۔ پاسبان رہنماؤں نے سوال کیا کہ ملک میں عارضی منصوبے کیوں بنائے گئے؟ ایک وائس چانسلر کی غیر موجودگی میں تجرباتی کام کو کس کے کہنے پر روک دیا گیا؟ اب جبکہ سندھ بھر میں سانپ اور کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں خوفناک اضافہ اور درجنوں اموات ہو چکی ہیں۔ سندھ کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں میں یہ ویکسین ناپید ہیں۔ عام میڈیکل اسٹوروں پر دستیاب نہیں تو ان منصوبوں کو فی الفور فعال کر کے ارزاں ترین نرخوں پر ویکسین کی تیاری کا کام مکمل ذمہ داری کے ساتھ شروع کیا جائے۔
![]()