کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) حکومت سندھ صنعتی علاقوں میں تعمیر وترقی کے لیے مزید رقوم جاری کرے گی، انفرا اسٹرکچر سے متعلق مسائل حل کیے جائیں گے، نئی صنعتیں لگانے والوں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ یہ بات صوبائی وزیر صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان، سینیٹر عبدالحسیب خان، چیئرمین و سی ای او کائٹ زبیر چھایا، کاٹی کی قائمہ کمیٹی برائے برآمدات و تجارت گلزار فیروز، سینیئر نائب صدر محمد اکرام راجپوت اور نائب صدر سید واجد حسین نے بھی اظہارخیال کیا۔ صوبائی وزیر صنعت کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے صنعتوں کو درپیش انفرااسٹرکچر کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی واضح ہدایات ہیں اور صنعتی زونز میں تعمیر و ترقی کے لیے صوبائی حکومت مزید فنڈز جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ صنعتوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی چاہے ہمیں وفاق کا تعاون حاصل ہو یا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی صنعتی انفرااسٹرکچر کے مسائل کے حل اور ایز آف ڈوئنگ بزنس سے متعلق اپنی تجاویز سامنے لائے، حکومت سنجیدگی کے ساتھ ان تجاویز پر غور کرتے ہوئے حکمت عملی تشکیل دے گی اور عملی اقدامات کرے گی۔ قبل ازیں صدر کاٹی شیخ عمر ریحان نے صوبائی وزیر صنعت اکرام اللہ دھاریجو کو کورنگی صنعتی علاقے کی معاشی اہمیت اور پیدواری صلاحیت سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کار برادری کا دیرنہ مطالبہ ہے کہ صنعتوں کو جن پینتیس سے چالیس اداروں کے سامنے جواب دہ بنایا گیا ہے اس سے پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حکومت اس کے لیے ون ونڈو آپریشن کا نظام وضع کرے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں زراعت، سی فوڈ، پھل اور سبزیوں سمیت مختلف شعبوں میں پراسیسنگ انڈسٹری کی بے پناہ گنجائش ہے اس پر توجہ دی جائے۔ شہخ عمر ریحان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کا استحکام ایس ایم ای سیکٹر کے فروغ پر منحصر ہے، صوبائی حکومت اس سلسلے میں مؤثر اقدامات کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صنعتی علاقوں کے مسائل کو حل کرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں جو کہ قابل ستائش ہے۔ سینیٹر عبدالحسیب خان نے حکومتی اور صنعت کار نمائندوں پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کا فروغ باہمی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں۔ سی ای او کائیٹ زبیر چھایا نے کہا کہ ایس ایم ایز اور کاٹیج انڈسٹری کے لیے کلسٹر بنائے جائیں۔ انہوں نے پرووینشل انڈسٹریل فیسیلیٹیشن بورڈ کو از سر نو فعال کرنے کی تجویز بھی دی۔ گلزار فیروز کا کہنا تھا کہ ملکی جی ڈی پی میں سندھ کا حصہ 43 فی صد ہے اور صوبے میں انڈسٹرلائزیشن کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی کارکردگی کی بہتری کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پانچ کمبائن افلوئینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس کی منظور دی تھی جن کی تعداد اب سات ہوچکی ہے تاہم ان کی تعمیر کے لیے کنٹریٹ فزیبیلٹی میں بیان کردہ لاگت سے زائد پر دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان پلانٹس کی تکمیل میں مزید تاخیر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا فوری نوٹس لیا جائے، کراچی کا ماحول اور صنعتیں اس منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ تقریب میں صوبائی سیکریٹری برائے صنعت نسیم اللہ غنی، کاٹی کے سابق صدور اور ممتاز صنعت کاروں نے بھی شرکت کی۔
![]()