لکھنؤ (مانیٹرنگ ڈیسک) ہندو سماج پارٹی سے وابستہ اور ہندو مہاسبھا کے سابق صدر کملیش تیواری کو لکھنؤ میں دن دہاڑے گولی مار کر قتل کردیا گیا، گستاخ رسول کو گولی لگنے کے بعد ٹراما سینٹر لے جایا گیا جہاں اس کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق لال لباس پہنے حملہ آور مٹھائی کا ڈبا دینے کے بہانے خورشید باغ علاقے میں واقع کملیش تیواری کے دفتر میں داخل ہوئے۔ حملہ آوروں نے اندر داخل ہونے کے بعد ڈبا کھولا اس میں سے بندوق نکال لی اور تیواری کو گولیوں سے بھون دیا۔ واردات کے بعد حملہ آور وہاں سے فرار ہوگئے۔ کچھ میڈیا رپورٹوں کے مطابق حملہ آوروں کی طرف سے گولی مارنے سے قبل تیواری کا تیز دھار خنجر سے گردن کاٹی گئی۔ واضح رہے کہ کملیش تیواری نے نومبر 2015 میں لکھنو میں ایک پریس کانفرنس میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ بیان دیا تھا جس کے خلاف ہندوستان بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئی تھیں۔ جس کے بعد میں تیواری کو گرفتار کیا تھا اور اس کے خلاف ’قومی سلامتی قانون‘ کے تحت کارروائی کی گئی۔ حال ہی میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے اس کے خلاف این ایس اے کو منسوخ کیا تھا۔ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لئے پولس ٹیموں کی تشکیل دی گئی ہے۔
![]()