! بینکاک (رپورٹ: عمران یوسف) غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم، نہایت اس کی حسین اور ابتداء ہے اسماعیل
دینِ حق کی سر بلندی کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہُ اور ان کے رفقاء کی بے مثال قربانی کی یاد میں بنکاک میں آج ماتمی جلوس برآمد کیے گئے- نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں نے کربلا کے میدان میں 10 محرم الحرام کو اسلام کی بقاء کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ایسی مثال قائم کی، جس نے رہتی دنیا تک حق اور باطل کے درمیان واضح حد قائم کردی۔ دنیا بھر اور تھائی لینڈ میں مسلمان حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کو یاد کر رہے ہیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا- تھائی لینڈ کی اٹھارہ سے زائد مساجد اور امام بارگاہوں میں عاشورا کے دن خراج عقیدت پیش کیا گیا- بنکاک کی سوریونگ روڈ پر واقع امام بارگاہ صاحب الزمان علیہ السلام میں ذوالجناح کا جلوس برآمد ہوا بنکاک میں یوم عاشور کی مرکزی مجلس مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے شروع ہوئی جس میں تھائی، پاکستانی، انڈین علماء اور عالم رضا نے فضائل اہل بیت اور واقعہ کربلا کے حوالے سے خطاب کیا-
عالم رضا نے واقعہ کربلا پر روشنی ڈالتے ہوۓ کہا کہ 10 محرم الحرام سن 61 ہجری کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر یزید کی بھیجی گئی فوج نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے اہل خانہ کے خیموں کا محاصرہ کیا اور یزید کے ہاتھوں بیت کرنے کا پیغام دیا جو امام عالی مقام نے رد کردیا خانوادہ رسول کے پر پانی بند کردیا گیا۔ حسین ابن علی کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان کے کچھ خواتین و بچے بھی شامل تھے۔ نواسہ رسول نے حق کی آواز پر لبیک کہا اور اپنا سب کچھ اپنے رب کی رضا کی خاطر قربان کردیا- مگر ایک فاسق و فاجر کے ہاتھ پر بیت نہ کی- سوری بانگ امام بارگاہ میں ذوالجناح اور تابوت معصومین کا جلوس برآمد ہوا
جلوس کے بعد زائرین نے نوحہ خوانی، ماتم، سینہ کوبی اور زنجیر زنی کے بعد جلوس کا اختتام ہوا
-جلوس میں پاکستانی ، تھائی، انڈین، بنگلہ دیشی اور دوسرے ممالک کے زائرین بڑی تعداد میں موجود تھے
![]()
![]()