کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں کنووکیشن 2018 کی تقریب مقامی ہوٹل میں پیر 31 دسمبر2018 کومنعقد کی گئی۔ تقریب تقسیم اسناد کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر برائے معدنیات جناب میر شبیر بجرانی تھے۔ کنووکیشن میں 525 طلبا کو ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ یہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں فارم ڈی کا پہلا بیچ، ایم بی بی ایس اور ماسٹرز آف سائنس اینڈ پبلک ہیلتھ کا دوسرا بیچ جبکہ ایم بی اے کا دوسرا اور تیسرا بیچ تھا۔ جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے ڈگری حاصل کرنے والے طلبا کو مبارکباد دی اور ساتھ ہی صحت، تعلیم اور تعمیر و ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی اسی صورت میں ممکن ہے جب اس ملک کی عوام صحتمند اور تعلیم یافتہ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی آبادی کو صحتمند بنانے میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا کردار قابل قدر ہے۔ اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا پبلک ہیلتھ اور ہیلتھ کیئر مینجمنٹ میں ڈگری تفویض کرنا مثبت اقدام ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی نے حکومتی منصوبوں کی ترقی میں اہم کردار کردادا کیا اور تھر کے مختلف علاقوں میں اس حوالے سے کی جانے والی امدادی کارروائیوں میں بھی حصہ لیا۔ آخر میں انھوں نے پاس آوٹ ہونے والے طلبا کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ وائس چانسلر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر سید محمد طارق رفیع نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کےسابق طلبا کو کیے گئے وعدے کا نتیجہ ہے جسے ان کی انتقال کے بعد وفا کیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی عظیم لیڈر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے نام کا گولڈ میڈل بھی اس برس جاری کیا گیا ہے۔ پروفیسر طارق رفیع کا مزید کہنا تھا کہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کے وقت اکاونٹ میں اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ اساتذہ کو تنخواہیں دے سکیں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اب جناح سندھ میڈیکل یونیوسٹی کے ساتھ دس میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کا الحاق عمل میں آچکا ہے او ر جے ایس ایم یو طلبا کی تعداد کے لحاط سے صوبے کی سب سے بڑی اور ملک کی دوسری بڑی جامعہ ہونے کا اعزاز رکھتی ہے۔ اس وقت جے ایس ایم یو میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد 7000 ہزار سے زائد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چھے برسوں میں ہم نے کئی اعلیٰ درجے کی درسگاہیں تعمیر کی ہیں اور آئندہ آنے والے سالوں میں بھی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے بینر تلے کالج آف فیملی میڈیسن، فزیو تھراپی اور نرسنگ کالج کو فعال کردیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سال سے ہم آن لائن ایگزمینیشن کا طریقہ کار بھی متعارف کرایا جس کے ذریعے سے چیٹنگ فری امتحان کی روایت کا بھی آغاز ہوا ہے۔ رواں برس ہم نے سینٹرلائزڈ داخلہ پالیسی کے ذریعے سے سندھ کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے داخلوں کا عمل بھی کامیابی سے مکمل کیا جس میں 32,000 امیدواروں میں سے 3150 کو داخلے ایک شفاف طریقے اور میرٹ کے مطابق دیے گئے لہذا ایک بھی داخلہ ابھی تک کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہوا۔ یویورسٹی کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے گرانٹ میں کمی کا بتایا کہ یونیورسٹی کی گرانٹ 247 ملین سے کم کرکے 30 ملین کردی گئی ہے جس جس کے باعث یونیورسٹی کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ساتھ ہی انھوں نے مزید منصوبوں کے لیے جامعہ کے لیے زمین کا مطالبہ بھی کیا۔ وائس چانسلر نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور قومی ادارہ برائے صحت اطفال کی تمام فیکلٹی پوزیشز کو جے ایس ایم یو کے زیر انتظام کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ خالی سیٹوں پر بھرتیاں کی جاسکیں۔ جلسہ تقسیم انعامات میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام پر خصوصی میڈل جاری کیا گیا ساتھ ہی اسی کے علاوہ 14 گولڈ میڈلز مزید دہے گئے۔ یونیورسٹی کی جانب سے سال کے بہترین ٹیچر کا گولڈ میڈل سید تفضل زیدی کو دیا گیا جبکہ ویلی ڈکٹورین 2018 مصطفیٰ حسن علوی قرار پائے۔
![]()