لاہور (بیورو رپورٹ) لاہور کے سب سے قدیم تھانے کی عمارت کو اصل حالت میں بحال کرکے اس تاریخی ورثے کو محفوظ کردیا گیا ہے، اس جگہ ایک سو اٹھاون سالہ تاریخ میں جرم کی دنیا کے ہزاروں واقعات سموئے ہوئے ہیں۔ جنگ آزادی کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے انتظامی امور کی کمان برطانوی حکومت کے سپرد کی تو سب سے پہلا تھانہ اس سرخ عمارت کو بنایا گیا جسے آج پرانی انار کلی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عمارت کو پہلے کوتوالی کی حیثیت حاصل تھی اور اٹھارہ سو اکسٹھ میں اسے تھانے کا درجہ دیا گیا، طویل مدت کے بعد تزئین و آرائش کرکے عمارت کو اصل حالت میں بحال کیا گیا ہے، راہ داریاں دریچے اور کھڑکیاں ماضی کے دور میں لے جاتے ہیں۔ سب انسپکٹر احسان نے بتایا کہ انگریز دور میں بھگت سنگھ کے خلاف مقدمہ اسی تھانے میں درج ہوا، غازی علم الدین شہید کو اسی تھانے کی حوالات مین بند کیا گیا تھا۔ شام ڈھلتے ہی قلعہ نما عمارت کے سرخ در و دیوار سفید روشنی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں، تھانے کی تزئین و آرائش میں والڈ سٹی اتھارٹی نے محکمہ پولیس کی معاونت کی ہے۔
![]()