ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) گومل یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن (گواسا) کے صدر ڈاکٹر بدر نے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گواسا کا پلیٹ فارم استعمال کرکے خود ساختہ گواسا کے ممبران کی جانب پشاور پریس کلب میں حقائق کو تروڑ مروڑ کر گومل یونیورسٹی کا تشخص اور اس کے تعلیمی ماحول کونقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے جوکہ انتہائی قابل افسوس امر ہے۔ گواسا گومل یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف کا رجسٹرڈ ادارہ ہے جس میں ممبران کا چناﺅ باقاعدہ انتخابات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔خود ساختہ گواسا کوئی منتخب نہیں ہے اور اس کے ممبران کا گواسا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گواسا کے منتخب صدر ہے اور آئندہ چند دنوں میں اس کے دوبارہ انتخابات ہوں گے جس کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گومل یونیورسٹی کے تمام پروگرامز میں اس وقت 12 ہزار 468 طلباء طالبات کے داخلے ہوچکے ہیں جبکہ سسٹم ایجوکیشن میں تیرہ ہزار، وینسم کالج میں دس ہزار سات سو 67 کے ساتھ کل طلباء کی تعداد 27 ہزار 235 کے قریب پہنچ چکی ہے۔ گومل یونیورسٹی اس وقت معاشی بحران سے نکل کر اب اپنے پاﺅں پر کھڑی ہوچکی ہے جن سٹاف تنخواہ سے کٹوتیاں کی گئیں انہیں بقایات کے صورت میں ادا کیا جاچکا ہے۔ گومل یونیورسٹی کی رینکنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایچ ای سی کے ویب سائیڈ پر دیکھا جاسکتا ہے کہ 2016 سے کسی یونیورسٹی کی رینکنگ نہیں کی گئی تو پھر یہ کیسے کہا جارہا ہے کہ گومل یونیورسٹی رینکنگ میں 16 سے 37 نمبرپر چلی گئی ہے جبکہ درحقیقت یونیورسٹی کی رینکنگ میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ نے گومل یونیورسٹی کی تارخ میں پہلی بار ریسرچ ایوارڈ جیتا ہے جبکہ میگا ریسرچ ایوراڈ بھی گومل یونیورسٹی نے جیتا ہے۔ کسی بھی یونیورسٹی کی کامیابی میں ریسرچ پراجیکٹ انتہائی اہمیت رکھتے ہیں ملک بھر میں گومل یونیورسٹی کی جانب سے ریسرچ پراجیکٹ جمع کرانے کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا وزیر اعظم گرین ملین ٹری پراجیکٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہیں جس کے تحت پانچ لاکھ پودے لگائے گئے جس سے ناصرف صحت مند ماحول میسر آئے گا بلکہ پھل دار پودوں سے آمدن بھی حاصل ہوگی۔یونیورسٹی میں سمسٹر سسٹم لاگو کیا گیا ہے جوکہ اپنے رولز اور ریگولیشن کے ساتھ کام کررہا جس سے طلباء اور اساتذہ کو نہایت آسانی ہورہی ہے۔ پی ایچ ڈی پروگرام شروع کیے جارہے ہیں ویٹرنری سائنسز کو فیکلٹی کا درجہ مل چکا ہے زرعی یونیورسٹی پر کام ہورہا ہے۔ گومل یونیورسٹی کا سال 2017.18 بہت بہترین رہا اگر ایچ ای سی کی رینکنگ کی گئی تو یہ بہت اوپر چلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا نے ریگروٹمنٹ پر پابندی عائد کی ہے جبکہ عدالت عالیہ کی جانب سے اسے ختم کرنے کی واضح ہدایات آچکی ہیں یہ پابندی ختم ہونے سے اکیڈمک سٹاف کی ترقی ہوگی اور فیکلٹز میں شارٹیج کو بھی پورا کیا جاسکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات جیت کر آنے والی گواسا کو ہی قانونی حیثیت حاصل ہے وہی ہر معاملے پر بات کرسکتے ہیں اس سلسلے میں نئے انتخابات عنقریب جلد ہونے والے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ احباب کی جانب سے کرپشن اور ناانصافی کے حوالے سے گورنر کو درخواستیں ارسال کی گئیں جس پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جوکہ تحقیقات کے لئے یہاں آتی جاتی رہی۔ رپورٹ سینٹ کے ممبران کو پیش کردی ہے۔ اس کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لئے سنڈیکیٹ کو ارسال کی گئی ہے جوکہ جلد سنڈیکیٹ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم قانون اور ضابطہ کی پاسداری پر یقین رکھتے ہیں لہذا بلاامتیاز کاروائی کی جائے اور جس نے غلطی کی ہے اسے قرار واقعی سزادی جائے۔ یہ یقین نہیں کہ کس کے حق اور کس کے خلاف ہوگی لیکن امید ہے کہ انصاف کے تقاضے ضرور پورے ہیں ۔سنڈیکیٹ کے اجلاس سے کئی لوگوں کے رکے ہوئے مسئلے بھی حل ہوں گے ۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد، پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین، پروفیسر شدیح اللہ، لیکچرار احمد علی اور لیکچرار میاں گل کے علاوہ دیگر اکیڈمک سٹاف کثیر تعداد میں موجود تھے۔
![]()