کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ڈیری فارمرز نے پیداواری لاگت کے مطابق دودھ کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ کردیا ہے۔ ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شاکر عمر گجر، حارث مٹھانی اور دیگر نے گزشتہ روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح عوام الناس کے لیے مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اسی طرح ڈیری فارمرز بھی مہنگائی کی چکی میں پِس رہے ہیں اور اس بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بارہا تحریر ی طور پر کنڑولر آف پرائس سمیت متعلقہ تمام اتھارٹیز کو گاہے بگاہے آگاہ کرتے رہے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں کراچی سے ڈیری فارمرز تیزی سے دیوالیہ اور بہت سے اندرون سندھ اور پنجاب کی جانب ہجرت کررہے ہیں۔ اگر دودھ کی پیداواری لاگت 108 روپے ہے تو ہم دودھ کو 85 روپے فی لٹر پر کیسے فروخت کر سکتے ہیں، اگر ہمیں اس قیمت پردودھ فروخت کرنے پر مجبور کیا گیا تو پھر ہم ڈیری فارمنگ ہی ختم کرنے پر مجبور ہونگے، دودھ کی قیمتوں کا تعین طلب و رسد کی بنیاد پر اوپن مارکیٹ سسٹم کے تحت ہونے دیا جائے اور اگر نہیں تو پھر حکومت عوام کو سستا دودھ فراہم کرنے لیے سبسڈی فراہم کرے نہ کہ غریب فارمر پر بوجھ ڈالا جائے ناقص پالیسیوں کی وجہ سے مقامی بریڈ کو بہتر نہ کیا جانا دودھ دینے والے مویشیوں کی مسلسل نسل کشی کی ہونا، بھوسہ، چوکر اور دیگر اجناس کی ملک کی ضروریات پوری کیے بغیر ایکسپورٹ اور چارے کا بطور ایندھن استعمال ہونا بھی دودھ کی پیداواری لاگت کو بڑھانے میں شامل ہے انھی وجوہات کی بناء پر اس سیکٹر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا پر کوئی پرسان حال نہیں ہم کمشنر کراچی کو 5 سے زائد درخواستیں لکھ چکے ہیں نتیجے میں 2ماہ پہلے ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں دودھ کی کاسٹ آف پروڈکشن مانگی گئی جو کہ ہم 3بار جمع کراچکے ہیں پر دوبارہ میٹنگ نہیں بلائی گئی ،ہم درخواست کرتے ہیں کہ فوری طور پر دودھ کی نئی قیمتوں کا کاسٹ آف پروڈکشن کے مطابق یکم اپریل تک نیا نوٹیفیکشن جاری کیا جائے بصورت دیگر فارمرز ازخوددودھ کی قیمتوں کا اعلان کرنے کے لیے آزاد ہونگے اوراگر ہمیں مجبور کیا گیا تو ہم شہرکراچی اور حیدرآباد ،کو دودھ اور گوشت کی سپلائی بند اور بیک وقت مہران ہائی وے، نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے پر اپنے مویشیوں کے ہمراہ پر امن احتجاج کر سکتے ہیں۔
![]()