کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) دخترپاکستان ڈاکٹر عافیہ کی امریکی جیل سے رہائی اور وطن واپسی کیلئے ” عافیہ رہائی کفن پوش پیدل مارچ “ کے پانچویں دن شرکاءاٹک شہر پہنچ گئے۔سپورٹرز آف ڈاکٹر عافیہ کی جانب سے پیدل مارچ کے شرکاءکا جگہ جگہ خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ پیدل مارچ میں شریک افراد جب اٹک شہر کے مضافاتی علاقہ گھوڑا مار کے گاﺅں سوجھنڈ پہنچے تو اہل علاقہ اور مدرسہ ”کلیات العلوم الاسلامیہ“کے مہتمم قاری قریب اللہ، معاون ڈاکٹر انعام اللہ ، انور گل و دیگر نے گرمجوشی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ مدرسہ کی انتظامیہ کی دعوت پر پیدل مارچ کے شرکاءنے ”ختم قرآن “ کی تقسیم اسناداور یوم پاکستان کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر پیدل مارچ میں شریک سپورٹرز آف عافیہ موومنٹ، لکی مروت کے رہنما انور خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کی جدوجہد کا مقصد پاکستان کی ہر بیٹی کا تحفظ ہے اور دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ پاکستانی شہری ”برائے فروخت“ نہیں ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ پاکستانی شہری ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے جس کی سب سے زیادہ حقدار ہماری بہن عافیہ بن چکی ہے۔ ڈاکٹر انعام اللہ نے کہا کہ آج 23 مارچ ”یوم پاکستان“ ہمیں تحفظ کا احساس دیتا ہے۔ اس احساس تحفظ کی حقدار ڈاکٹر عافیہ سب سے زیادہ ہے کیونکہ اس نے 16 سال ناکردہ جرم کی سزا پائی ہے۔ ملک بھر کے عوام کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر حکومت ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کا اعلان کردیتی تو یہ قوم کیلئے ”یو م پاکستان “ کا تحفہ ہوتا۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر عافیہ کی جلد رہائی اور پاکستان کی ترقی اور استحکام کیلئے خصوصی دعا کا اہتمام بھی کیا گیا۔
![]()