ٹنڈو آدم (رپورٹ: رضوان احمد غوری) ہنستا مسکراتا 34 سالہ نوجوان سید جہانداد علی ولد سید منظور علی جس نے این ای ڈی یونیورسٹی کراچی سے سوفٹ وئیر انجینئر کی ڈگری حاصل کی اور گذشتہ آٹھ سالوں سے نیوزی لینڈ میں مقیم تھا جو گزشتہ روز نیوزی لینڈ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے شہادت کی انگلی فضا میں بلند کرتے ہوئے گھر سے اپنے رب کے سامنے حضور سر سجود ہونے کیلئے نکلا تھا جو وحشی اسلام دشمن درندے کی گولیوں کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کرگیا۔ شہید کی والدہ کا تعلق ٹنڈو آدم سے ہے اور سید جہانداد علی کے 85 سالہ نانا سید نسیم شاہ اور پورا خاندان صدمے سے دوچار ہے۔ شہید کے لواحقین میں دو بیٹیاں اور ایک چار ماہ کا بیٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کی مساجد میں شہید ہونے والوں کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور انکے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔ شہید جہانداد کی یہ تصویر جمعہ کے روز اس وقت کی ہے جب وہ نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے گھر سے رخصت ہوا، لیکن یہ اس کی آخری تصویر ثابت ہوئی۔
![]()