اسلام آباد (نوپ نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں سماعت کی غلط خبریں نشر کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تنبیہ کیا کہ اگر ایسے حالات رہے تو میڈیا پر پابندی بھی عائد کی جاسکتی ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد وقت کی کمی کی وجہ سے مزید سماعت 15 اگست تک ملتوی کردی۔ بدھ کے روز شریف فیملی کے قانونی مشیر خواجہ حارث اپنے دلائل دیں گے۔ گزشتہ سوموار کے روز شریف فیملی کی ایون فیلڈ پراپرٹی ریفرنس میں سزا کو کالعدم قرار دینے کی درخواستوں پر سماعت کی۔ جب سماعت شروع ہوئی تو شریف فیملی کے قانونی مشیر ، ن لیگ کے رہنما پرویز رشید عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل نئے ڈویژنل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔جسٹس عامرفاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے بینچ کو دوبارہ تبدیل کیا گیا۔بینچ میں شامل فاضل جسٹس اطہرمن اللہ نے فریقین کے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ آپ کو بنچ پر اعتماد ہے ، اگر دونوں کو بینچ پر اعتماد ہے تو ہم سماعت شروع کریں، جس پر خواجہ حارث، امجد پرویز نے اعتماد کا اظہار کیا جبکہ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے موقف اپنایا کہ سزا معطلی کی درخواست سزا کے 6 ماہ کے بعد سنی جاسکتی ہے۔ جس پر اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اگر آپکی اس دلیل کو مان لیاجائے تو اس کا مطلب کہ مشال خان قتل کیس میں سزا کی معطلی سے متعلق کیس خلاف قانون سن رہی ہے۔ دوران سماعت نوازشریف کے وکیل کا کہنا تھاکہ احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی مالیت اور ذرائع آمدن کا معلوم نہیں کیا گیا۔ دونوں چیزوں کا پتا لگائے بغیر آمدن سے زائد اثاثہ جات کا الزام عائد کر دیا گیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے پراسیکیوٹر نیب سے استفسار کیا کہ 1993ء میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کتنے میں خریدے گئے جس پر سردار مظفرنے جواب دیا کہ انکو معلوم نہیں۔ مگر پھر بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جائداد کرپشن سے بنائی گئی۔ سردار مظفر بولے کہ ہم نے دستاویزات سے ثابت کیا ہے کہ مریم نواز نیلسن اور نیسکول بنیفشل مالکہ ہیں۔ اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ نیب کے پاس کیلبری فونٹ کے علاوہ کوئی دستاویزی ثبوت ہے تو پیش کرے۔ ٹرائل کورٹ نے نوازشریف کے مالک ہونے کا کہا ہے کہ مریم نواز کا نہیں۔ نیب پراسیکیوٹر بولے کہ مریم نوازکے بینفشل مالک ہونے جائیداد چھپانے کے دستاویزی ثبوت بھی عدالت میں پیش کر دیئے ہیں۔ ٹرسٹ ڈیڈ کے جعلی ہونے سے متعلق اور بھی بہت سے شواہد موجود ہیں۔
![]()