تازہ ترین
Home / اہم خبریں / کراچی اسٹیج کی معروف فنکارہ سمیرا بیگ کی کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سولجر بازار پولیس نے جھوٹا مقدمہ بنایا، پولیس اہلکار نے زبردستی ویڈیو بنائی

کراچی اسٹیج کی معروف فنکارہ سمیرا بیگ کی کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سولجر بازار پولیس نے جھوٹا مقدمہ بنایا، پولیس اہلکار نے زبردستی ویڈیو بنائی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی اسٹیج کی فنکارہ سمیرابیگ نے کہا ہے کہ میں نے اس وقت کراچی اسٹیج پر کام شروع کیا تھا جب کراچی حالات خراب تھے کرفیوں کراچی میں لگا رہتا تھا، ہاشو رئیو آڈیٹوریم میں ڈرامے ہوتے تھے پھر امبر آڈیٹوریم، کراچی آڈیٹوریم، فلیٹ کلب میں ڈرامے کیے ہیں ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر امیر شیخ میرے کیس کی تفتیش کروائیں پھر دیکھیں کہ یہ فنکاروں کی عزت ہے۔ پولیس اس طرح کا سلوک کرتی ہے مجھے میری بیٹی کو دودھ تک پلانے نہیں دیا گیا کھانا تک نہیں دیا گیا۔ ایس ایچ او عبداللہ اور قربان عباسی نے جس طرح لوگوں کو کرنٹ لگا کر بھاری رشوت وصول کی ہیں سب کو رقم واپس دلائی جائے۔ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سمیرا بیگ کا کہنا تھا کہ جاوید شیخ کی فلم "یہ دل آپ کا ہوا” اور عمرشریف، شکیل صدیقی، رؤف لالہ، سکندر صنم، لیاقت سولجر اور شہزاد رضا سمیت کئی فنکاروں کے ساتھ ڈرامے ورائٹی شوز کیے کراچی آڈیٹوریم میں بھی بہت یاد گار ڈرامے کیے امبر آڈیٹوریم، فلیٹ کلب، آرٹس کونسل لاہور، ملتان، حیدرآباد سمیت کئی شہروں میں ڈارمے وارئٹی شوز میں پرفارم کیا ہے 28 فروری کو سپراسٹار میوزیکل نائٹ شو کیا جارہا تھا جس کے تمام اجازت نامے حاصل کیے گئے تھے میرے شو میں کراچی اسٹیج کی کئی فنکارائیں تھیں جنہوں نے پرفارم کیا میں نے ونڈو بند کی اور شوز میں آگئی رات ڈیڑھ بجے کے قریب سولجر بازار تھانے کے پولیس اہلکار آگئے اور انہوں نے شو بند کروادیا میں نے ایس ایچ او سے پوچھا کیا ہوا ہے تو ایس ایچ او نے بولا کہ تھانے چلو بتاتا ہوں ہم سب کو تھانے لایا گیا تھانے میں سو سے زائد لوگو ں کو لایا گیا جس میں کراچی اسٹیج کی فنکارائیں اورشائقین شامل تھے کئی شائقین کو کرنٹ لگایا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ایس ایچ او عبداللہ بھٹو، سب انسپکٹر قربان عباسی تشدد کرنے والوں میں شامل تھے، ایس ایچ او عبداللہ بھٹو اور سب انسپکٹر قربان عباسی نے بھاری رشوت لیے کر کئی لوگوں کو چھوڑ دیا ہم نے پیسے نہیں دیے ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے مجھ پر گٹکا کھانے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا، ہفتہ کو میں نے جب ضمانت کروانے کے بعد تھانے آئی تو سب انسپیکٹر قربان عباسی نے اپنے فون سے زبر دستی میری ویڈیو بنائی کہ میں نے کسی رپورٹر کو بیان نہیں دیا جبکہ میرے شوہر ابوبکر کو میں نے بتایا تھا کہ میں 50 ہزار روپے آڈیٹوریم کو دیے تھے اور شوکی اجازت بھی لی گئی میرایہ بیان اخبار میں بھی چھپا ہے، ہم فنکاروں نے کراچی کی رونقیں بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے ہم نے راتوں کو ڈرامے اور وارئٹی شوز کے زریعے کراچی میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے یہ ہماراجرم ہے حالات کتنے بھی خراب ہوں ہم اپنے شائقین کے چہروں پر مسکراہٹیں دیکھنا چاہتے ہیں یہ ہمارا قصور ہے، گلی، محلوں میں شادی کی تقریب ہو اس میں بھی ہم اپنی پرفارمنس دیکھاتے ہیں ہم فنکار ہیں جن کو بہت حساس کہا جاتا ہے مگر سولجر بازار پولیس نے ہمارے ساتھ جنگی قیدیوں جیسا سلوک کیا ہے وزیر اعلی سندھ، چیف جسٹس سندھ، آئی جی سندھ نوٹس لیں اور ہمیں انصاف فراہم کریں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے