تازہ ترین
Home / آرٹیکل / غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے بند کیے جائیں! تحریر: حامد ولی

غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے بند کیے جائیں! تحریر: حامد ولی

غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے بند کیے جائیں

تحریر: حامد ولی

پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کی سیاسی قیادت نے جس بلوغت کا مظاہرہ کیا ہے اس نے پوری قوم کو ایک نیا ولولہ عطاء کیا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ثابت کیا ہے کہ اندرونی اختلافات اپنی جگہ مگر دشمن کے خلاف پوری پاکستانی قوم یک زبان اور متحد ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے برصغیر پر 764 سال تک حکمرانی کی مگر انہوں نے کبھی ہندوؤں کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا۔ اگر مسلمان حکمران تعصب کا مظاہرہ کرتے تو آج بھارت میں ہندو دیکھنے کو بھی نہیں ملتے۔ مسلمان جب بھی یک جان ہوکر دشمن کے خلاف نکلے ہیں تو کامیابی ان کی مقدر بنی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کو منہ توڑ جوا دے کر اس بات کو ثابت کردیا کہ جنگ باتوں سے نہیں بلکہ جذبہ ایمانی اور ہمت سے لڑی جاتی ہے اور اس قت پوری پاکستانی قوم اپنے ملک کی مسلح افواج پر فخر محسوس کرہی ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کو حقیر نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے وہ شاید اپنی تعداد کو دیکھ کر اس بات کو بھول گئے ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ اس بات سے بھری پڑی ہے کہ انہوں نے کبھی تعداد پر اکتفا نہیں کیا ہے اور اپنے سے کئی گنا زیادہ قوتوں کو شکست دی ہے۔ یہاں میں اس بات کا بھی تذکرہ کرتا چلوں کہ اس ملک میں رہنے والے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہہ رے ہیں کہ ”ہندوستانی اور پاکستانی ” بھائی بھائی ہیں اور جنگ نہیں امن چاہتے ہیں۔ ہم بے شک امن چاہتے ہیں لیکن ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قوم ہیں جن کے طور طریقے یکسر جدا ہیں۔ اگر یہ واقعی ایک ہی قوم ہوتے تو پھر پاکستان بنانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی۔ مودی سرکار اپنے ملک میں موجود عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ہم پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ کیسی سوچ ہے کہ اپنے چند سالہ اقتدار کے لیے پورے خطے کو جنگ میں دھکیل دیا جائے۔ پاکستان کی حکومت روز اول سے امن کی بات کررہی ہے۔ بھارتی پائلٹ کی رہائی کے بعد بھی بھارت جنگی جنون میں مبتلا رہے اور پاکستان کو سبق سکھانے کی بات کرے تو ”امن یہ فاختائیں” جو ہاتھوں میں ”موم بتیاں”ادھر ادھر مارچ کرتی نظر آتی ہیں ان کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا۔ امن کا کوئی بھی مخالف نہیں ہے لیکن ملک کی عزت و حمیت کی قیمت پر امن کی بات نہیں کی جاسکتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ اب بھارت سے بھی اس طرح کی آوازیں آرہی ہیں کہ مودی سرکار پورے خطے کو جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ ان کے اپنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ پلوامہ حملہ ایک ڈرامہ تھا اور نریندر مودی انتخابات میں کامیابی کے لیے ہر حربہ اختیار کر رہے ہیں۔ جہاں اس وقت بھارت میں سیاسی جماعتیں تقسیم ہیں وہیں دوسری جانب پاکستان میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے حکومت سے شدید اختلاف رکھنے کے باوجود عمران خان کے ہر موقف کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے، جو بات اس کا ثبوت ہے کہ ہمارے سیاستدان بھارتی سیاستدانوں سے زیادہ ہوشمندی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ہماری سیاسی جماعتوں نے جو کردار ادا کیا ہے اس کے بعد اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ملک کے اندر غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے بند کیے جائیں اور رہنماؤں کو سکیورٹی رسک قرار دے کر ان کی تذلیل نہ کی جائے۔ ہمارا ہر رہنماء محب وطن ہے۔ ہمارے وہ نوجوان بھی وطن سے محبت کرتے ہیں جو اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں اور ہم ان کو غدار ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ہم ان کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتے لیکن ان کو ملک دشمن قرار دینا کہاں کا انصاف ہے۔ آپ جہاں بھارت سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہیں وہیں آپ ملک کے اندر موجود ان لوگوں سے بھی بات کریں جن کو مختلف معاملات پر تحفظات ہیں۔ اتحاد اور یکجہتی کا جو مظاہرہ آج دیکھنے میں آرہا ہے اس کو بعد میں بھی جاری رہنا چاہیے۔ ڈائیلاگ اس ملک کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ حکومت کو بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانا چاہیے اور جس طرح پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے تمام جماعتوں نے ایک موقف اختیار کیا ہے اسی طرح تمام معاملات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔ ملک میں لاپتہ افراد کا مسئلہ بھی انتہائی اہمیت کا ہے۔ ہمیں یہ طرز عمل اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ ا س موضوع پر بات کرنا ہی ملک دشمنی کہلائے یہ لوگ جو لاپتہ ہوئے ہیں ہمارے ہی بھائی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ کسی کے بہکاوے میں آگئے ہوں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان کو گلے لگائیں اور اگر انہوں نے کچھ غلط بھی کیا ہے تو ان کو معاف کرتے ہوئے آگے کی جانب بڑھا جائے۔

 نوٹ: آزادیِ اظہار رائے کے احترام میں کالم نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

مسیحا نما جلاد ! ۔۔۔ تحریر : شاہد مشتاق

وہ رمضان 6 جون 2017ء کا ایک ابر آلود دن تھا مجھے لمبے عرصے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے